اصلاحات کے نام پر کاشتکاروں کا استحصال نہ کیا جائی ، ڈاکٹر مرتضی مغل

فرد واحد کو نوازنے کیلئے پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی نہ کی جائے، عوام کی جیب پر بیس ارب روپے کا ایک اور ڈاکہ ہے ، صدر پاکستان اکانومی واچ

بدھ مئی 21:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں روغنی بیچ کی پیداوار میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو رہی ہے جسے پورا کرنے کیلئے درامدات بڑھائی جا رہی ہیں جس سے قیمتی زرمبادلہ ضائع جبکہ لاکھوں کسانوں کااستحصال ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے اتحاد زمینداران و کاشتکاران کے صدر جان نثار خلیل،انجمن کاشتکاران کے نائب صدر چوھدری محمد یاسین اوردیگر کاشتکار تنظیموں کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ کو نوازنے کی پالیسی نے زرعی شعبہ کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔

فرد واحد کو نوازنے کیلئے پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی نہ کی جائے۔ گزشتہ پانچ سال میں خوردنی تیل کے بیج کی درامد ساڑھے سات لاکھ ٹن سے بڑھ کر اکتیس لاکھ ٹن تک جا پہنچی ہے۔

(جاری ہے)

سستے بیج کی بلا روک ٹوک درامد سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا قیمتی زر مبادلہ خرچ ہو رہا ہے جبکہ مقامی کاشتکاربری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں سورج مکھی سرسوںاور کینولہ سے نکلنے والے تیل کی پیداوار جو 2011 میں تقریباً سات لاکھ ٹن تھی اب ساڑھے چار لاکھ ٹن سے بھی کم ہو گئی ہے ۔

فرد واحد کو فائدہ پہنچانے کے لئے درامد شدہ روغنی بیج پر ڈیوٹی اور ٹیکس انتہائی کم رکھے گئے ہیں جبکہ بجٹ میں سویابین آئل پر درامدی ڈیوٹی میں 32.6 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے روغنی بیج کی درامد پہلے ہی سال میں پچاس لاکھ ٹن تک پہنچ جائے گی جس سے مقامی کاشتکاروں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ اگلے بارہ مہینے میں روغنی بیج کی درامد کی مد میں حکومت کے نقصانات بیس ارب روپے تک پہنچ جائیں گے جبکہ عوام کی جیب سے بیس ارب روپے نکال کر ایک با اثر سیاستدان کی جیب میں ڈال دئیے جائیں گے۔

اس موقع پر جان نثار خلیل نے کہا کہ کسان پیکج کے اعلان کے فوراً بعد یوریااور دیگر مداخل کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کے دعووں کی نفی ہے۔ با اثر کارخانہ داروں کی مخصوص لابی کے بجائے اگر کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو روغنی بیج کی پیداوار بڑھ سکتی ہے جس سے امپورٹ بل میں کمی آئے گی جبکہ عوام کو بھی ریلیف ملے گا۔حکومت سویا بین آئل پر درامد ڈیوٹی کم کرے اور اشرافیہ کے بجائے کسانوں کو سبسڈی دے تو انکی حالت زار بہتر ہو جائے گی جبکہ جی ڈی پی بھی بڑھے گا۔