تقدیر کا شکوہ کر کے اپنی عملی ذمہ داریوں سے فرار دستبردار نہیں ہوا جا سکتا ،۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی

فلسفہ تقدیر کے درست فہم کی ضرورت ہے شکوہِ تقدیر سے پہلے عمل کا احتساب لازم ہے آج کی زبوں حالی کی بڑی وجہبے عملی اور عملی ذمہداریوں سے فرار ہے ،چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ

بدھ مئی 21:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) مسلم دنیا کی ہماری موجودہ پست وزوال پذیر حالتِ زار عمل سے غفلت کے باعث ہے ۔ تقدیر کا شکوہ کر کے اپنی عملی ذمہ داریوں سے فرا رو دستبردار نہیں ہوا جا سکتا ۔تقدیر کی شکایت سے پہلے عمل کا احتساب لازم ہے قومیں اپنے اعمال کی وجہ سے برباد ہوئیں نہ کہ تقدیر کی وجہ سے ۔ علامہ اقبالؒ نے ہمیں جو تصورِ تقدیر دیا ہے وہ جہدِ مسلسل اور عمل ہے ۔

ان خیالات کا اظہار چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ’’ افکارِ اقبال ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے مزید کہا کہ مسلم دنیا کے زوال کی بڑی وجہ تصور تقدیر ہے مسلمان تقدیر کا بہانہ کر کے عمل سے غافل ہے انسان نائبِ خدا ہے وہ وہ ستاروں کی چال یعنی تقدیر کا کا پابند کیسے ہو سکتا ہے اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا کہ جو ایمان لائے اور عملِ صالح اختیار کئے ، یعنی عمل کی قوت کو بروئے کار لائے وہ کامیاب ہوئے وہ ہر خسارے پر قابو پا سکتے ہیںمسلمانوں کے مستقبل کا دارومدار ان کے عمل پر منحصرہے جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سات سال کی مختصر جہدِ مسلسل سے ہم نے ایک ملک حاصل کر لیا لیکن کیا وجہ ہے کہ ستر سال گزر جانے کے باوجود ہم استحکام حاصل نہیں کر پا رہے کیا وجہ ہے کہ کشمیر ، فلسطین اور دوسرے اسلامی ممالک مقبوضہ ہیں ۔

(جاری ہے)

ہم صرف دعا کیئے جا رہے ہیں لیکن عملی ذمہ داریوں سے راہِ فرار اختیار کیئے ہوئے ہیں کیا اس رویے سے ہم اہداف حاصل کرلیں گے ہمیں ہمارے اسلاف نے اور خصوصا علامہ اقبال نے جو تصورِ تقدیر دیا اس کی بنیاد عمل ہے ۔ اسلام ہمیں عمل کا درس دیتا ہے انسان مجبورِ محض نہیں ہے ، اقبال نے شیکسپیر پر جو تنقید کی ہے وہ اسی تناظر میں ہے کہ وہ کہتا ہے کہ دنیا ایک سٹیج اور ہم محض اداکار ، نہیں ایسا نہیں ہے ہم نے اپنی دنیا اور آخرت خود بنانی ہے ، اگر ہم مجبورِ محض ہوں تو آخرت کا کیا سوال ، یوم حشر ہم سے کیسا سوال و جواب ، ایسا نہیں ہے انسان کو آذاد پیدا کیا گیا ہے انسان کو اللہ نے طاقت دی ہے کہ اپنی دنیا خود پیدا کر سکتا ہے ، قومیں اپنے اعمال کی وجہ سے برباد ہوتیں ہیں اپنی تقدیر کی وجہ سے نہیں ، قومیں اپنے اعمال کی وجہ سیے خروو ہوتی ہیں اپنی تقدیر کی وجہ سے نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقبال نے دوسرا تصور قومیت کا دیا ہے جس کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے اقبال فرماتے ہیں کجہ ہر ملک ملکِ ما است ، یعنی اے مسلمان یہ پوری دنیا ، یہ پوری کائنات اللہ نے تیرے لئے بنائی ہے ، تو کہیں بھی جائے ییری شناخت اور پہچان اسلام ہے نہ کہ کوئی جغرافیہ یا کوئی ملک ، فارس کے حضرت سلمانؓ ، حجاز کے حضرت ابوبکر ؓاور حبشہ کے حضرت بلال ؓمل جائیں تو بھی ایک ہی قوم ہیں کیونکہ اقبال کا تصورِ قومیت اسلام کے اصول پر قائم ہے ۔

اقبال کہتے ہی کہ اپنی زمین سے اس طرح پیوستہ نہ ہو کہیں کا نہ رہے یعنی غافل نہ ہو، اپنے آپ کو ایک جگہ باندھ کر قید نہ ہو بلکہ اپنے افکار میں آذاد رہ ، اپنی زمین سے وابستہ ضرور رہ ۔ تقریب کے اختتام پر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آذاد نے مہمانانِ گرامی و سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے عہداداروں جوائنٹ سیکرٹری حافط کوثر گوندل ، نائب صدرنوشین گل گھرل ،صدر ریاست علی آذاد، م جنرل سیکرٹری خورشید احمد بٹ ، ممبر اسلام آ باد بار کونسل سید واجد علی گیلانی اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری ،آصف گوندل سمیت سپریم کورٹ کے وکلاء ملک امیر داد اعوان، ملک میر افضل، پیر فدا حسین ہاشمی زاہد محمود راجا سمیت وکلاء کی قابل ذ کر تعداد نے تقریب میں شرکت کی ۔

تقریب کے اختتام پر وقفہِ سوال و جواب ہوا ۔ اسلام آباد بارایسوسی ایشن کی جانب سے چیئرمین مسلم انسٹییوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی کو لوحِ یادگار پیش کی گئی ۔