پنجاب فرانزک سائنس کے میدان میں یہ نئے اقدامات جدت اورمہارت کی روشنی مثال ہے‘شہبازشریف

عدلیہ ،عسکری،سیاسی قیادت،عوام ،انتظامیہ اورتمام سٹیک ہولڈرز کو ملک کی ترقی اورخوشحالی کیلئے ملکر کام کرنا ہے مسلم لیگ(ن) کو چھوڑنے والے آزاد پرندے تھے ،2018ء کا الیکشن بتا دے گا کہ ا نکی اڑان زیادہ اونچی ہے یا ہماری،نیب نے نوازشریف کیخلاف اربوں ڈالر مبینہ کسی ملک بھجوانے کا نوٹس مفروضے کی رپورٹ پر لیا ہے،جس پر پوری قوم ورطہ حیرت میں ہے چوہدری نثارسینئر ترین رہنماء اورپارٹی میں مقام رکھتے ہیں،میری گزارش ہے کہ وہ جذبات میں نہ آیا کریں وفاقی وزیر داخلہ پر ہونیوالا حملہ افسوسناک ہے،جس سے دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی ہے،واقعہ کے عوامل کا گہرائی میں جائزہ لینا ہوگا الزام تراشی اوردن رات جھوٹ بولنا نیازی صاحب کا معمول بن چکا ہے،2018ء کے انتخابات میں قوم اس کا انہیں جواب دے گی پاکستان کو خوشحال بنانا کسی ایک فرد،ادارے یا پارٹی کے بس کی بات نہیں ،ملکر ہی پاکستان کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے‘وزیراعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو

بدھ مئی 21:31

پنجاب فرانزک سائنس کے میدان میں یہ نئے اقدامات جدت اورمہارت کی روشنی ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ٹھوکر نیازبیگ میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے ملحقہ پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈڈرگ اتھارٹی سائنس انکلیو کے قیام کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ 4 ارب روپے کی لاگت سے اس منصوبے کو مکمل کیا جائیگا اور یہ منصوبہ مارچ 2019 میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی تربیتی لیبارٹری کے قیام کے منصوبے کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔

یہ منصوبہ ایک ارب روپے کی لاگت سے رواں برس نومبر میں مکمل ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد دعا مانگی اور متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی سائنس انکلیو کے قیام کا منصوبہ انقلاب آفرین اقدام ہے جہاں جدید ترین سائنسی آلات نصب کئے جائیں گے۔

(جاری ہے)

خوراک، ادویات اور زرعی مداخلات کے معیار کو یقینی بنانے میں یہ منصوبہ اہم کردار ادا کرے گا اور اس پراجیکٹ کو مکمل طور پر خودمختار ادارے کے زیرانتظام چلایا جائے گا اور ماہر سائنسدان عالمی معیار کو مدنظر رکھ کر اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی تربیتی لیبارٹری کا قیام اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔لیبارٹری میں ڈاکٹرز، سائنسدانوں اور ماہرین کو جدید ترین خطوط پر تربیت دی جائے گی۔۔پنجاب فرانزک سائنس کے میدان میں یہ نئے اقدامات جدت اور مہارت کی روشن مثال ہیں۔وزیراعلیٰ کی زیرصدارت پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے کمیٹی روم میں اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ کو دونوں منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کے ذریعے صوبے کے اندر سائنسی بنیادوں پر ریسرچ اور کریمنل تفتیش کے حوالے سے بڑا اقدام اٹھایا گیا ہے۔۔پنجاب حکومت نے دونوں منصوبوں کیلئے ترجیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کئے ہیں۔ ہم خیبرپختونخوا اور سندھ کو بھی اس ضمن میں تعاون فراہم کر رہے ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم پاکستان کے دیگر صوبوں سے تعاون کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ان منصوبوں کیلئے دن رات محنت کرنے پر متعلقہ محکموں کے وزراء رانا ثناء اللہ،، خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، ایوب گادھی، نعیم اختر بھابھہ، مختار بھرت، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور ڈی جی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی ڈاکٹر طاہر اشرف کو مبارکباد دی اور ان کی کارکردگی کو سراہا۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے میں سائنسی بنیادوں پر تحقیق اورکریمنل انوسٹی گیشن کے حوالے سے بڑا قدم اٹھایا ہے اوردومنصوبوں کا سنگ بنیاد رکھاگیا ہے جن پر تیزرفتاری سے کام ہورہا ہے ۔امید ہے کہ پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈڈرگ اتھارٹی سائنس انکلیواگلے سال کے شروع میں مکمل ہوگاجبکہ تربیتی لیب کا منصوبہ رواں سال نومبر میں پائیہ تکمیل کو پہنچے گا۔

ان منصوبوں کیلئے ضرورت کے مطابق وسائل فراہم کیے جارہے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی صوبے کے عوام کو انصاف کی فراہمی کے حوالے سے گراں قدر خدمات سرانجام دے رہا ہے اورہم اس حوالے سے دیگر صوبوںکو بھی معاونت فراہم کررہے ہیں جو ہمارا فر ض ہے ۔ایسے ادارے کے قیام کیلئے خیبر پختونخواہ حکومت کو ہر قسم کی پروفیشنل اورٹیکنیکل سپورٹ فراہم کررہے ہیں ۔

انہوںنے کہا کہ پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈڈرگ اتھارٹی سائنس انکلیواورپنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی تربیتی لیبارٹری کے منصوبے اسمبلی کے پاس کردہ قانون کے ذریعے بنائے جارہے ہیںاوران اداروں کا قیام حکومت پنجاب کا انتہائی مستحسن اقدام ہے ۔آج کے جدید دور میں جرائم کی بیخ کنی ،عوام کو انصاف کی فراہمی،معیاری ادویات اورخوراک کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔

یقینا یہ ادارے اس حوالے سے مثبت کردارادا کریں گے۔انہوںنے کہا کہ قصور اورمردان کی بیٹیوں کے ساتھ زیادتی اوربربریت ہوئی۔اگر پنجاب فرانزک ایجنسی کا ادارہ نہ ہوتا توخداجانے ہمیںمجرموں تک پہنچنے کیلئے کتنا وقت لگتا اورصحیح نتائج کے حصول میںکتنے سال بیت جاتے ۔اگر آج ہم قوم کی ان بیٹیوں کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کرنے والے مجرموں تک پہنچے ہیں تو اس کا سارا کریڈٹ اس ادارے کو جاتا ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے چند سال قبل یہ ادارہ بنایا تھااورآج یہ جنوبی ایشیاء کا بہترین ادارہ بن چکا ہے اس میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی کیسزآتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈڈرگ اتھارٹی سائنس انکلیو اورپنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی تربیتی لیبارٹری کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اوراب تک ان پر دو ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں ،انشاء اللہ یہ دونوں منصوبے اگلے سال کے شروع میں آپریشنل ہوجائیںگے اور مارچ 2019ء میں ان دونوں منصوبوں کی تکمیل سے ایک ہی چھت تلے تینوں ادارے آزادانہ طورپر کام کریں گے اورصوبے کے اندر انقلابی دور کا آغاز ہوگا۔

انہوںنے کہا کہ ایک ارب روپے کی لاگت سے بننے والی تربیتی لیب رواں سال نومبرمیں مکمل ہوجائے گی اوراس لیب کی تکمیل سے پہلے تربیت کیلئے باہر بھجوانے پرجو کروڑوں روپے خرچ ہوتے تھے اس کی بچت ہوگی۔میں ان منصوبوں پر پوری قوم کو مبارکباددیتا ہوں جس طرح پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی دنیا کا مایہ ناز ادارہ بن چکا ہے اسی طرح یہ دو ادارے بھی دنیا کے معروف ادارے بنیں گے۔

یقینا یہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا بڑا کارنامہ ہے ۔انہوںنے کہا کہ ان منصوبوں پر ٹیم ورک کے طورپر کام کیا جارہا ہے اوران منصوبوں کومقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے میڈیاکے نمائندوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں گزشتہ روز سندھ گیاتو وہاں کے لوگوں نے برملا کہا کہ سندھ میں نہ تو کوئی اچھا ہسپتال اورتعلیمی ادارہ ہے اورنہ ہی انفراسٹرکچر جس پر مجھے دکھ ہوا،اگر ہمیں موقع ملاتو پنجاب کی طرح سندھ اوردیگر صوبوں کو بھی ترقی دیںگے۔

پاکستان کو مضبوط بنانا کسی ایک فرد ،ادارے یا پارٹی کے بس کی بات نہیں، ہمیں ملکرپاکستان کو مضبوط بنانا ہے ۔اجتماعی محنت ،بصیرت اورصلاحیتوں کو بروئے کار لاکراسے صحیح معنوں میں قائدؒ و اقبالؒ کا پاکستان بنایا جاسکتا ہے ،یہی قائدؒکا فرمان اوراقبال ؒکا خواب تھاجو 70سال گزرنے کے باوجود ادھورا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ عدلیہ ،عسکری ،سیاسی قیادت عوام انتظامیہ اورتمام سٹیک ہولڈرز کو ملکرملک کو ترقی اورخوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنا ہے ۔

مشترکہ اوراجتماعی کاوشوں کے بغیر ملک کسی صورت آگے نہیں بڑھ سکتا۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو چھوڑنے والے آزاد پرندے تھے اور انہوں نے 2013 کے الیکشن کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اب 2018 کا الیکشن بتا دے گا کہ ان کی اڑان زیادہ اونچی ہے یا ہماری۔ محمد نوازشریف کیخلاف اربوں ڈالر مبینہ کسی ملک بھجوانے کی شکایات پر نیب کے نوٹس کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ نوٹس نیب نے مفروضے کی رپورٹ پر لیا ہے اور پوری قوم ورطہ حیرت میں ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ محمد نوازشریف نے 4.9 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کی ہے۔

سٹیٹ بینک اور ورلڈ بینک نے بھی اس کی تردید کر دی ہے۔ اس نوٹس سے نیب کی ساکھ کو بہت ضعف پہنچا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ چیئرمین نیب اس بات کا نوٹس لیں گے جنہوں نے یہ غیرمناسب اقدام کرایا ہے کیونکہ نیب کا اپنا امیج بری طرح مجروح ہوا ہے اور جو لوگ اس پر شک و شبہ کا اظہار کر رہے تھے ان کے موقف کو تقویت ملی ہے۔ گزشتہ روز کے واقعہ کے بعد اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دیگر تین صوبوں میں نیب کا سورج بادلوں کی اوٹ لئے ہوئے ہے۔

چوہدری نثارکے بارے میں میڈیا کے جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب میری بات آتی ہے تو چوہدری نثار میری تعریف کے حوالے سے کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ چوہدری نثار پارٹی میں ایک مقام رکھتے ہیں اورسینئر ترین رہنماء ہیں۔میرے دوست بھی ہیں اورقابل احترام بھی ،میری ان سے گزارش ہیں کہ وہ جذبات میں نہ آیا کریں۔ایک اورسوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر ہونے والا حملہ افسوسناک ہے جس سے دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی ہے ۔

ہمیںاس واقعہ کے عوامل کا گہرائی میں جاکر جائزہ لینا ہے ۔انتہاء پسندی اورعدم برداشت کے رویے خطرناک ہیں،آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے انہیں کنٹرول کرنا ضروری ہے ۔تمام سٹیک ہولڈرزکو مل بیٹھ کر اس کا حل تلاش کرنا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں زرداری ہاؤس اوربنی گالا ہم نوالہ ،ہم پیالہ ہیں۔

انہوںنے کہا کہ خان صاحب خود کہہ چکے ہیں کہ سینٹ کے الیکشن میںانہیں40کروڑ روپے کی آفر ہوئی ،وہ دو پاکستان کی بجائے ایک پاکستان بنانے کی بات کرتے ہیں لیکن وہ کوئی ایک مثال اوراقدام تو ایسا بتائے جو انہیں نے کے پی کے میں ایک پاکستان بنانے کے حوالے سے کیا ہے ۔انہوںنے کے پی کے میں 70کروڑ روپے کی لاگت سے احتساب کا ادارہ بنایا جو آج بھی بند ہے اوراس ادارے میں کرپشن پر کسی ایک کو بھی ادارے نے سزا نہیں دی۔

نیازی صاحب نے کے پی کے میں ایک ارب درخت لگانے کا جھوٹ بولا اوروہ دن رات جھوٹ بول رہے ہیں ۔الزام تراشی اورجھوٹ بولنا عمران نیازی کا معمول بن چکا ہے ۔2018ء کے انتخابات میں قوم اس کا انہیں جواب دے گی۔ایک اورسوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی جیسا مایہ ناز ادارہ بنایا ہے ،9ڈویژنوں میں اسے سٹیلائٹ کے ذریعے منسلک کیاگیاہے۔انہوںنے کہ اس ادارے کے قیام کے حوالے سے مذاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ، ادارے کیلئے پرانا سٹاف نہیں لیاگیا بلکہ میرٹ کی بنیاد پر باصلاحیت سٹاف بھرتی کیاگیا اورانہیں بیرون ملک سے تربیت دلائی گئی۔اسی طرح ڈرگ ٹیسٹنگ لیبز کے لئے بھی یہی طریقہ کار اپنایاگیاہے ۔