پی سی بی نے غیر ملکی لیگز کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کردیا

ریٹائرڈ کھلاڑیوں کو این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی،ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے دو سال تک این او سی حاصل کرنا ہوگی،کسی بھی کھلاڑی کو اضافی لیگ میں شرکت کی اجازت دی جائے گی،ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ کے ڈھانچے میں18- 2017کے سیزن کی طرح کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی،فیصلہ فرسٹ کلاس سسٹم کو برقرار رکھا گیا ، چار روزہ میچوں کے ساتھ ایک ون ڈے ٹورنامنٹ بھی کرایا جائے گا، ڈومیسٹک کرکٹ کو پر کشش بنانے کے لئے فرسٹ کلاس کھلاڑیوں کی میچ فیس میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے، بورڈ اعلامیہ

بدھ مئی 22:19

پی سی بی نے غیر ملکی لیگز کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کردیا
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) پاکستان کرکٹ بورڈ ((پی سی بی)) نے غیر ملکی لیگز کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔یہ فیصلہ کچھ روز قبل ہونے والے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا۔۔پی سی بی کے مطابق ریٹائرڈ کھلاڑیوں کو این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ریٹائرڈ کھلاڑی اپنی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے دو سال تک این او سی حاصل کرنا ہوگی اس کے بعد این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

بعض خصوصی کیسوں میں پاکستانی ٹیم کیچیئر مین پی سی بی،، چیف سلیکٹر، ہیڈ کوچ، ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز پر مشتمل کمیٹی این او سی جاری کرے گی۔اس طرح کسی بھی کھلاڑی کو اضافی لیگ میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ کے ڈھانچے میں18- 2017کے سیزن کی طرح کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

(جاری ہے)

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیزن کو پرکشش بنانے اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے کئی اہم فیصلے کئے ہیں۔

کھلاڑیوں کی میچ فیس میں اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ گراونڈز اور پچوں کی حالت میں بہتری لائی جائے گی۔سیزن میں میچوں کی تعداد کو کم کرکے معیاری کرکٹ پر زور دیا جائے گا۔ آئندہ سیزن میں بھی فرسٹ کلاس ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے گا۔۔پی سی بی نے اپنی نگرانی میں کلب کرکٹ کو آئوٹ سورس کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ڈسٹرکٹس کے لئے ہر سیزن میں لازمی ہے کہ وہ دو ٹورنامنٹ کرائیں۔

آئوٹ سورس کلب ٹورنامنٹ اس کے علاوہ ہوگا۔فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں 8 ریجنل اور 8 ڈپارٹمنٹل ٹیمیں شرکت کریں گی۔۔قائد اعظم ٹرافی میں ریجن اور ڈپارٹمنٹ کی 16ٹیمیں شرکت کریں گی۔۔قائد اعظم ٹرافی کی فاتح ٹیم فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی جبکہ آخری نمبر پر آنے والی فیصل آباد اور نیشنل بینک کی ٹیم گریڈ ٹو کے نان فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی۔

2018-19میں زرعی ترقیاتی بینک کی ٹیم بھی فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی۔سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑی ایک سیزن میں پاکستان سپر لیگ سمیت دو لیگز میں شرکت کرسکیں گے۔جن کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں ہیں انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ سے این او سی حاصل کرنے کے لئے کم از کم تین ڈومیسٹک میچ کھیلنا ہوں گے۔اس بات کا اعلان بدھ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلامیہ میں کیا گیا۔

تین مئی کو لاہور میں ہونے والی بورڈ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ کے فیصلوں کا اعلان چھ دن بعد کیا گیا۔میٹنگ میں چیئر مین نجم سیٹھی،، سبحان احمد، مدثر نذر، انضمام الحق، ہارون رشید، شکیل شیخ اور ثاقب عرفان نے شرکت کی۔فرسٹ کلاس سسٹم کو برقرار رکھا گیا ہے تاہم چار روزہ میچوں کے ساتھ ایک ون ڈے ٹورنامنٹ بھی کرایا جائے گا۔۔پی سی بی کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ کو پر کشش بنانے کے لئے فرسٹ کلاس کھلاڑیوں کی میچ فیس میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

ریجنل کھلاڑیوں کی میچ فیس ڈپارٹمنٹس کے برابر کردی جائے گی۔ریجن کے جن کھلاڑیوں کو ماہانہ مشاہرہ دیا جاتا ہے۔یہ معاوضہ ڈومیسٹک میچ فیس میں ضم کردیا جائے گا۔۔پی سی بی نے ریجن کے کھلاڑیوں کی میچ فیس میں اضافہ اور ریٹنرشپ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈومیسٹک کرکٹ میں معیار لانے کے لئے پیٹرنز ٹرافی گریڈ ٹو میں ٹیموں کی تعداد 16 کردی جائے گی۔چیئرمین پی سی بی کے مشیر شکیل شیخ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فرسٹ کلاس سینٹرز کا دورہ کرکے پچوں اور انفرااسٹرکچر کے بارے میں رپورٹ دیں۔شکیل شیخ اپنی رپورٹ اور تجاویز 30 روز میں جمع کرائیں گے مدثر نذر یا ہارون رشید شکیل شیخ کے ہمراہ گراونڈز کا دورہ کریں گے۔۔