گورنرسندھ محمد زبیر نے کراچی میں چار بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کردیا

2.35 ارب روپے کی تخمینی لاگت سے تین فلائی اوورز سخی حسن ، فائیو اسٹار اور بورڈ آفس پر تعمیر کئے جا ئیں گے،محمد زبیر �ب روپے سے منگھو پیر روڈاور 860 ملین روپے کی تخمینی لاگت سے نشتر روڈ تعمیر کیا جائے گا، پریس کانفرنس

بدھ مئی 22:42

گورنرسندھ محمد زبیر نے کراچی میں چار بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کردیا
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) گورنرسندھ محمد زبیر نے کراچی ترقیاتی پیکج کے تحت چار بڑے منصوبوں کا اعلان کردیا ہے ، ان منصوں میں 2.35 ارب روپے کی تخمینی لاگت سے تین فلائی اوورز سخی حسن ، فائیو اسٹار اور بورڈ آفس پر تعمیر کئے جا ئیں گے ،3.5 ارب روپے کی تخمینی لاگت سے منگھو پیر روڈ دو مراحل میں مکمل ہوگااور 860 ملین روپے کی تخمینی لاگت سے نشتر روڈ تعمیر کیا جائے گا جبکہ 1.9 ارب روپے سے شہر میں فائر فائٹنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا اس ضمن میں فائر فائٹنگ آلات ،فائر ٹینڈرز ، مشینیں اور گاڑیوں سمیت دیگر ضروری سامان سے ادارہ کو مزید ترقی دی جائے گی ، اعلان کردہ منصوبوں کا سنگ بنیاد اگلے ہفتہ رکھا دیا جائے گا جس میں میئر کراچی بھی موجود ہونگے کیونکہ ان کی نشاندہی پر فائر فائٹنگ سمیت دیگر منصوبے شامل کئے گئے ہیں ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہا ر انہو ں نے گورنر ہائو س میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔گورنرسندھ نے مزید کہا کہ اعلان کردہ منصوبوں کی متعلقہ اداروں سے منظوری کے بعد فنڈز بھی مختص کردیئے گئے ہیں، ان منصوبوں کے علاوہ جامعہ کراچی میں اسپتال اور میڈیکل کالج کے قیام کی تمام اداروں سے منظوری کے بعد ایکنک (ACNEC) سے منظوری باقی ہے اس پر 8.5 ارپ روپے خرچ ہونگے واضح رہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں وزیر اعظم پاکستان نے کراچی کی بحالی کے ضمن میں ان ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا تھا ،منصوبوں کی تکمیل سے شہریوں کو زبردست ریلیف حاصل ہوگا ،اقتصادی شہ رگ کی ترقی وخوشحالی کے وژن کے تحت وفاقی حکومت بھرپور تعاون فراہم کررہی ہے ،ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے شہر کے مسائل میں کمی اور لوگوں کو جدید سہولیات حاصل ہونگی ۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے قریب آتے ہیں الیکشن کمیشن نے نئے ترقیاتی منصوبوں پر پابندی عائد کردی ہے اس لئے کئی ارب روپے تخمینی لاگت کے فراہمی و نکاسی آب ، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا اعلان نہیں کیا جا رہا ہے لیکن آئندہ منتخب ہونے والے حکومت کے دور میں ان منصوبوں پر بھی کام کا آغاز شروع کردیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے آغاز سے قبل دوسیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والا تصادم سیاسی عدم برداشت کے رویہ کا عکاس ہے ، تصادم میں قومی و عوامی املاک کے نقصان اور خوف کی فضا سے عوام کے ذہنوں پر سیاسی جماعتوں کے حوالہ سے منفی سوچ نے جنم لیا اس ضمن میں سیاسی جماعتوں سے اپیل ہے کہ وہ افہام و تفہیم ، برداشت اور بھائی چارہ کی فضا کو پروان چڑھائیں ،یہ بہت ناز ک مرحلہ ہے جس میں ہمیں برداشت کا عملی مظاہرہ کرنا چاہئے ۔

گورنرسندھ نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبہ میں ترقیاتی منصوبوں کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہے لیکن موجودہ وفاقی حکومت پورے ملک کی یکساں ترقی کے وژن کے تحت صوبہ با الخصوص معاشی شہ رگ کراچی کی ترقی و خوشحالی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر بھرپور اقدامات یقینی بنارہی ہے اس ضمن میں لیاری ایکسپر یس وے کی تکمیل کے بعد گرین لائن ، K-IV اور دیگر میگا پروجیکٹس پر کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے بعد شہر کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ منی پاکستان کہلانے والے شہر میں عوام کو اس کے ثمرات حاصل ہو سکیں ۔ ایک سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ تھر میں توانائی کے تین منصوبوں پر 5 ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے ، پورٹ قاسم کے 1320 میگا واٹ کے منصوبے بھی مکمل کرلئے گئے ہیں ، 2 ایل این جی ٹرمینلز لگائے گئے ہیں جو کام کررہے ہیں، حکومت کی معاشی پالیسی کے باعث شرح نمو5.8 فیصد ہو چکی ہے ان پالیسیوں کے تسلسل سے آئندہ منتخب ہونے والی حکومت شرح نمو 7 فیصد تک حاصل کرسکتی ہے ۔

ایک اور سوال کے جواب میں گورنرمحمد زبیر نے کہا کہ سندھ اور اس کے عوام ترقی میں دیگر صوبوں سے بہت پیچھے ہیں لیکن موجودہ وفاقی حکومت صوبہ کی ترقی وخوشحالی کے لئے پر عزم ہے اس ضمن میں صوبہ کی ترقی وخوشحالی کے لئے وفاقی ترقیاتی منصوبے اہم ثابت ہونگے ، جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے عوام کو زبردست سہولیات حاصل ہونگی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم ، صحت اور انفرااسٹرکچر کے کام وفاق کی ذمہ داری نہیں کیونکہ 18 ویں ترمیم کے بعد یہ صوبائی حکومت نے کرنا ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت صوبہ کی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔