دریائے سرن کی مچھلی کی آڑ میں باسی اور مضر صحت مچھلی مہنگے داموں فروخت کرنے کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا

بدھ مئی 23:15

مانسہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) پکھل کے مختلف علاقوں خاکی، شنکیاری اور اچھریاں میں دریائے سرن کی مچھلی کی آڑ میں دیگر علاقوں سے درآمد ہونے والی باسی اور مضر صحت مچھلی مہنگے داموں فروخت کرنے کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا۔ باسی اور مضر صحت مچھلی 800 روپے کلو سرعام فروخت ہو رہی ہے۔ محکمہ خوراک کی پراسرار خاموشی سے معاملہ مشکوک ہو گیا۔

(جاری ہے)

مین شاہراہ ریشم پر قائم مچھلی فروشوں کی دکانوں پر روزانہ دیگر علاقوں سے لائی جانے والی مچھلیاں مختلف بیماریوں کی فیکٹریاں بن گئی ہیں، ایسے مچھلی فروشوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔ پکھل کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے وفد نے بتایا کہ دریائے سرن کی لذیذہ مچھلی کو بنیاد بنا کر مچھلی فروش عوام کو کھلے عام دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف عمل ہیں۔ دریائے سرن کی پانچ کلو مچھلیوں میں آدھی باسی مچھلیاں ملاوٹ کر کے اسے 800 سے 1000 روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ عنوان :