راولپنڈی،ضلعی انتظامیہ،آر ڈی اے ،چکلالہ و راولپنڈی کنٹونمنٹ

بورڈزاورمیونسپل کارپوریشن راولپنڈی کی مبینہ ملی بھگت سے غیر قانونی شادی ہالوں ، مارکیوںاور پلازوں کی بھر مار مجوزہ قواعدو ضوابط کے برعکس 80فیصد سے زائد تعمیرات میں نقشہ فیس اوراور دیگر مدات میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف،زرائع

بدھ مئی 23:15

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) ضلعی انتظامیہ ،راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی ای)چکلالہ و راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈزاورمیونسپل کارپوریشن راولپنڈی کی مبینہ ملی بھگت اور سیاسی سرپرستی میں راولپنڈی شہر و چھائونی اور اس کے گردونواح میں غیر قانونی شادی ہالوں ، مارکیوںاور پلازوں کی بھر مار ہو گئی مجوزہ قواعدو ضوابط کے برعکس 80فیصد سے زائد تعمیرات میں نقشہ فیس اوراور دیگر مدات میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کا بھی انکشاف ہوا ہے جبکہ آر ڈی اے کے شعبہ بلڈنگ کے علاوہ کارپوریشن کے بلڈنگ انسپکٹروں نے بھی ریٹ مقرر کر تے ہوئے ریسکیو1122اور سول ڈیفنس جیسے اداروںکو دیوار سے لگاکر ہومیو پیتھی بنا تے ہوئے مذکورہ دونوں اداروں کو صرف فائلوں پر دستخط اورچالانوں تک محدود کر کے عملی اختیارات پر قبضہ کر لیا ذرائع کے مطابق اس وقت راولپنڈی شہر میںاس وقت 49نئے اور پرانے شادی ہال موجود ہونے کے علاوہ بہت بڑی تعداد ایسے پلازوں کی ہے جن کی تعمیر میں بلڈنگ بائی لاز کی دھجیاں اڑائی گئیں سابقہ ٹی ایم اے راولپنڈی کے ٹائون میونسپل افسرسردار تاشفین کے دوران میں بغیرنقشہ غیر قانونی تعمیرشدہ عمارتوں اور رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں کے خلاف کاروائی کے لئے سروے کا آغاز کیا گیا تھالیکن ان کے تبادلے کے بعد یہ سروے اور غیرقانونی تعمیرات کا ڈیٹا فائلوں میں دبا دیا گیا ذرائع کے مطابق غیر قانونی شادی ہالوں ، مارکیوں اور پلازوںکی تعمیر کے لئے مروجہ قواعدو ضوابط کے تحت ضروری ہے کہ کسی بھی کمرشل پلازہ کی تعمیر کے لئے مختص جگہ2کنال سے کم ہو جبکہ پلازے یا شادی ہال کی تعمیر کے لئے مختص جگہ کا مین شاہراہ پر ہونے کے ساتھ کمرشل ہونا بھی ضروری ہے اسی طرح مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت شادی ہال اور پلازے کی تعمیر میں ہنگامی راستے اور آگ بھجانے کے آلات نصب ہونا بھی ضروری ہے لیکن اس وقت راولپنڈی کی80فیصد سے زائد شادی ہالوں اور پلازوں میں مروجہ قوانین کا خیال نہیں رکھا جاتا ذرائع کے مطابق اس وقت آر ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کے پاس میں شہر میں کمرشل پلازوں کا مکمل ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے جبکہ قومی احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن سمیت تحقیقاتی اداروں کے خوف سے بظاہر فائل ورک مکمل کیا جاتا ہے اور نقشہ فیس میں خورد برد کے علاوہ 2سے 3منزلہ پلازے کا نقشہ منظور کر کے 2سی3منازل غیر قانونی طور پر تعمیر کی جاتی ہیں اسی طرح شہرو چھائونی کے بیشتر پلازوں اور شادی ہالوں میں پارکنگ کی جگہ ہی موجود نہیں ہے اس ضمن میں کوشش کے باوجودآر ڈی اے کے ڈائریکٹرمیٹرو پولیٹن اور ٹریفک انجینئرنگ جمشید آفتاب اور ڈائریکٹر لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول علی عمران سے رابطہ نہ ہو سکا جبکہ میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کے میونسپل افسر پلاننگ شہزاد حیدر نے آن لائن کو بتایا کہ شادی ہالوں اور پلازوں سے متعلق قانون 2007میں پاس ہوا تاہم انفورسمنٹ کے شعبے میں بہتری کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں انہون نے غیر قانونی تعمیرات صرف راولپنڈی کا نہیں بلکہ پورے پنجاب کا مسئلہ ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس حوالے نہ تو کوئی ڈیٹا مجتمع کیا گیا اور نہ کوئی سروے ہو رہا ہے البتہ میئر راولپنڈی سردار نسیم کے عمرہ سے واپسی پر اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا اور بلڈنگ انسپکٹروں پر بھی چیک اینڈ بیلنس کا نظام بنایا جائے گا ادھر ریسکیو1122کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس کسی غیر قانونی شادی ہال یا پلازے کو چیک کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہمارے پاس کسی بھی پلازے یا شادی ہال کی تعمیر کے لئے آنے والے نقشے میں یہ پڑتال ضروری ہے کہ اس نے اس میں لکھا ہو کہ عمارت میں ہنگامی راستے اور فائر سیفٹی آلات نصب ہیں اور ہم صرف اس لکھے ہوئے کی منظوری دینے کا اختیار رکھتے ہیں تاہم پیپر ورک کی حد تک ہم اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں جبکہ سول ڈیفنس ذرائع نے’’ آن لائن‘‘ کو بتایا کہ ہمارے پاس صرف چالان کا اختیار ہے اور ہم مروجہ قوانین کے تحت اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کر سکتے اس حوالے سے کاروائی کرنا اسسٹنٹ کمشنر سے کمشنر اور آر ڈی اے یا کارپوریشن کی ذمہ داری ہے ۔