پی اے آر سی کے صدر دفاتر میں ملازمین کا احتجاج

بدھ مئی 22:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) پاکستان ایک زرعی ملک ہے او ر ملکی آبادی کا زیادہ تر حصہ بلواسطہ یا بلاواسطہ اس شعبے سے منسلک ہے اور زراعت کا پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ملک میں زراعت کی ترقی و ترویج اور عوام کو بہتر اور مفید خوراک کی فراہمی اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے فصلات کی پیداوار کو بڑھانے میں دن رات مصروفِ عمل ہے۔

جیسا کہ روز روز بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی زمین کی کمی ہونا بھی ایک چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے پی اے آر سی دن رات کوشاں ہے۔ تمام سرکاری ملازمین حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہیں اور انہیں وقت پر بڑھنے والی تنخواہ اور الائونسز کی فراہمی بھی حکومت کا ہی کام ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے 2017 میں تنخواہوں اور پنشن کی مد میں 10% اضافہ کیا گیا جو کہ پی اے آر سی کو تا حال جاری نہیں کیا گیا۔

(جاری ہے)

ان ضمن میں گزشتہ برس سے ہی ہر پیمانے پر کوششیں کی جا رہی ہیں اور بجٹ کے لیے فائل وزارت خوراک اور وزارت خزانہ کو بھیجی گئی لیکن ابتداء ہی سے اس کام کو ٹالا گیا اور تیسرے کوارٹر کی ریلیز میں پی اے آر سی بورڈ آف گورنر سے منظور ہونے کے بعد 855.582 میلین کی رقم کے لیے فائل بھیجی گئی جو کہ 814.582 تک کٹ لگا کر کیس کو وزارتِ خزانہ بھیجا گیا لیکن ابھی تک پی اے آر سی کو اس ضمن میں کوئی فنڈ ریلیز نہیں کیا گیا۔

ان حقائق کے پیشِ نظر پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے ملازمین نے پی اے آر سی کے صدر دفاتر میں احتجاج اور مظاہرہ کیا۔ پی اے آر سی کے ملازمین نے دنوں وزارتوں کے اعلی عہدیداران سے مطالبہ کیا کہ سپلیمنٹری گرانٹ 814.582 ملین کی فائل کو منظوری دے تا کہ 2017 میں بڑھنے والی تنخواہ، پینشن، کموٹیشن، پی ایم فیملی اسسٹنس پیکج ،ہائوس ہائرنگ کے لیے 35% اضافہ اور دیگر فنڈر کی ادائیگی کی جا سکے۔ ۔ ۔طارق ورک