مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہیں ‘نہتے کشمیریوں پر دنیا کے خطرناک ترین ہتھیار پیلٹ گنوں کے ذریعے آنکھوں کی بینائی سے محروم کیا جارہا ہے ‘اب ان پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین کا مختلف تقریبات سے خطاب

بدھ مئی 22:27

سٹوک آن ٹرینٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہیں نہتے کشمیریوں پر دنیا کے خطرناک ترین ہتھیار پیلٹ گنوں کے ذریعے آنکھوں کی بینائی سے محروم کیا جارہا ہے اور اب ان پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔

وہ آج یہاں مختلف تقریبات سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کا نشانہ کشمیری نوجوان ہیں ،،مقبوضہ وادی میں کشمیری ماں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کی جاتی ہے۔ آئے روز کشمیریوں کو شہید کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنا چاہتا ہے جس کے لئے بھارتی شہریوں کو قبوضہ کشمیر میں بسایا جارہاہے ،،بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی ہوئی ہے تاکہ وہاں پر ہونے والے مظالم کی اصل صورتحال باہر کی دنیا تک نہ پہنچ سکے انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنے بنیادی حق حق خودارادیت کے حصول کیلئے بھارت کے ظلم و جبر کا نشانہ بن رہے ہیں ، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ میں کشمیر یوں کے تسلیم شدہ حق حق خودارادیت دلانے کیلئے بھارت پر دبا ڈالے ۔

(جاری ہے)

دنیا میں حالات تیزی سیتبدیل ہورہے ہیں ،جس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور دنیا کے کہی ممالک نے آزادی حاصل کر لی ہے اسی طرح ہم امید کرتے ہیں مسئلہ کشمیر بھی جلد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70سال سے کشمیریوں کے ساتھ ناانصافیاں ہورہی ہیں یہ مسئلہ اب حل ہو جانا چاہیے ۔ کشمیری تارکین وطن مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینالا قوامی میڈیا کو مسئلہ کشمیر کی اصل صورتحال سے دنیا کو آگاہ کرنے کیلئے موثر کردار ادا کرنا چاہیے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس مسئلے پر آپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔