قومی اسمبلی ، وزیراعظم کے منی لانڈرنگ کے الزام کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر اپوزیشن جماعتیں تقسیم

تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے مطالبے کو مستردکر دیا پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان نے پارٹی قیادت سے مشاورت کیلئی(آج)جمعرات تک کیلئے وقت مانگ لیا حکومتی اتحادی جماعتوں جمعیت علماء اسلام (ف)اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی مکمل حمایت کمیٹی کے قیام سے متعلق اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کر کے (کل) آگاہ کریں،سپیکر کی شیخ آفتاب کو ہدایت

بدھ مئی 22:33

قومی اسمبلی ، وزیراعظم کے منی لانڈرنگ کے الزام کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے نوازشریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر اپوزیشن جماعتیں تقسیم ہو گئیں ۔۔پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے مطالبے کو مستردکر دیا جبکہ پیپلپز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان نے پارٹی قیادت سے مشاورت کیلئی(آج)جمعرات تک کیلئے وقت مانگ لیا ۔

حکومتی اتحادی جماعتوں جمعیت علماء اسلام (ف)اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی مکمل حمایت کی۔سپیکر سردار ایاز صادق نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب کو کمیٹی کے قیام سے متعلق اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت مکمل کر کے (آج)جمعرات کو آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی۔

(جاری ہے)

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میںوزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام کے نیب نوٹس کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے اور کمیٹی کو چیئرمین نیب کو طلب کر کے ثبوت مانگنے اور رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا جس پر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے کہا کہ وزیر اعظم کی تشویش سمجھ سکتا ہوں انکی پارٹی کے سربراہ پر انتہائی سنجیدہ الزام لگا ہے، نواز شریف پر نیب کے الزامات پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خدشات درست ہیں، سابق وزیراعظم پر اتنی بڑی رقم باہر بھیجنے کا الزام لگایا گیا ہے، کمیٹی کے قیام کے حوالے سے ہم پارٹی سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے،ایوان میں نئی روایت ڈالی جا رہی ہے مگر وزیر اعظم کے مطالبے پر پارلیمانی کمیٹی کے قیام سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا پارٹی قیادت سے مشاورت کر کے ایوان کو آگاہ کرئوں گا۔

پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ یہ رویہ درست نہیں کہ اگر کسی وزیر یا حکومتی شخصیت کا نام آئے تو پارلیمنٹ اداروں کو دبانے کی کوشش کرے، ہم نیب کو دباو میں لانے کے لیے کسی کمیٹی کی حمایت نہیں کریں گے، وزیراعظم کی باتوں پر حیرت ہوئی، ورلڈ بینک رپورٹ میں جو آیا ہمیں نہیں معلوم یہ ٹھیک ہے یا غلط، جب یہ رپورٹ آئی تھی تو وزارت خزانہ کو صورتحال واضح کرنی چاہئے تھی، اگر ایک رپورٹ پر ایک ادارے نے نوٹس لیا ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔

جماعت اسلامی کی رہنما عائشہ سید نے کہا کہ اگر کوئی الزام لگا ہے تو اس کی آزاد تحقیقات ہونی چاہئے، پارلیمنٹ کے ذریعے نیب پر دباو ڈالنے کی حمایت نہیں کریں گے، نیب پر پارلیمانی دبائو سے انصاف کا قتل عام ہوگا۔۔ایم کیوایم کے رہنما شیخ صلاح الدین نے کہا کہ ہم پہلے بھی کہتے رہے معاملات پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہئیں، نیب کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تجویز اچھی ہے، کمیٹی کے قیام پر ہم مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔

مسلم لیگ (ن)کے رکن اسمبلی اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے جس سے تمام ادارے جنم لیتے ہیں اور اختیارات حاصل کرتے ہیں،موجودہ صرتحال میں سرکاری ملازمین انتہائی خوفزادہ ہیں اور فیصلے نہیں کر پا رہے۔شیخ آفتاب نے تسلیم کیا کہ پانامہ کیس کو سپریم کورٹ لیجانا غلطی تھی ہمیں اپنے گھر کا اختیار کسی اور کو نہیں دینا چاہیے تھاگھر کے فیصلے گھر میں کرنے چاہیے تھے،آج ہم زیر عتاب ہیں کل دوسری طرف والے بھی ہو سکتے ہیں، پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے مطالبے کا مقصد کسی ادارے کے اختیارات چھیننا یا محدود کرنا نہیں ہوگا۔

ہم 15سے 20دن کے مہمان ہیں کل نئی حکومت آجائے گیمگر ہم قوم کے سامنے حقائق رکھنا چاہتے ہیں،اپوزیشن سے درخواست ہے کہ ملکر قوم کیلئے فیصلہ کریں ۔وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ اس طرح کے الزام قوموں کی عزت کو متاثر کرتے ہیں،پارلیمانی کمیٹی کے قیام میں کوئی غلط بات نہیں،یہ انتہائی سنجدہ معاملہ ہے اس کو سیاست کی نظر نہ کیا جائے ۔

پری پول دھاندلی کے لئے اس سے بڑھ کوئی الزام نہیں ہو سکتا،ہم سب کچھ قوم کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں اتنا بڑھ الزام لیکر نہیں جانا چاہتے۔پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزائی نے کہا کہ میں جو کچھ ابھی تک سمجھا ہوں اسکو بیان کرنا چاہتا ہوں ،خدانخواستہ اگر نیب کی جانب سے نواز شریف پر لگایا جانے والا الزام درست ہے تو اس ایوان میں بیٹھا کوئی بھی شخص نیب کو تحیقات سے نہیں روکنا چاہے گا،لیکن اگر یہ الزام غلط ہے تو پارلیمنٹ اس کا نوٹس لے اور نیب اور اس کے چیئرمین کا علاج کرے۔

جے یو آئی (ف)کی نعیمہ کشور خان نے کہا کہ ہماری جماعت شروع دن سے نیب قانون کے خلاف ہے،اس پارلیمان نے آئین کو بنایا ہے آئین نے پارلیمان کو نہیں بنایا،جب ہمیں چوٹ لگتی ہے تو ہمیں تب احساس ہوتا ہے،ہمیں نیب قانون میں ترمیم کیلئے قانون سازی کرنی چاہیے تھی،ہم پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب نے ایک خبر کی بنیاد پر نواز شریف کے خلاف اربوں ڈالر بھارت منتقل کرنے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا تاہم عالمی بینک اور اسٹیٹ بینک نے نواز شریف پر اس الزام اور پاکستان سے بھارت رقوم کی منتقلی کی تردید کردی ہے۔