راخائن،فوجی جوان سے 3.6 ملین ڈالرز کی منشیات برآمد،منشیات کو بنگلہ دیش اور دیگر ایشیائی ممالک کو سمگل کیا جانا تھا

بدھ مئی 22:34

راخائن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) میانمار کی شمالی ریاست راخائن میںفوجی کے قبضے سے 3.6 ملین ڈالرز کی منشیات برآمد ہوئی،،منشیات کو بنگلہ دیش اور دوسرے ایشیائی ممالک میں سمگل کیا جانا تھا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق میانمار کی شمالی ریاست راخائن میں ایک ملکی فوجی اور دو دیگر افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے قبضے سے 3.6 ملین ڈالرز مالیت کی نشہ آور گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔

راکھین میں ہی روہنگیا مسلمانوں کو ’نسلی تطہیر‘ کا سامنا ہے۔۔میانمار کی ریاست راخائن میں ملکی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ’بہیمانہ‘ آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس آپریشن کا مقصد اس مسلم نسلی اقلیتی گروپ کے باشندوں کو ان کے علاقوں سے زبردستی بے دخل کرنا ہے۔

(جاری ہے)

اسی باعث آٹھ لاکھ سے زائد روہنگیا باشندے حالیہ چند ماہ کے دوران اپنے گھر بار چھوڑ کر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

میانمار انفارمیشن کمیٹی کے فیس بٴْک پیج پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ملکی فوج کے ایک اہلکار اور ایک اور دیہاتی شخص کو ریاست راکھین میں راتھے ڈاؤنگ نامی شہر کے قریب ایک چیک پوائنٹ پر گرفتار کر کے ان کے قبضے سے میتھمفیٹامین نامی نشہ آور دوائی کی، جسے مختصرآ میتھ بھی کہا جاتا ہے، دو لاکھ گولیاں برآمد کر لی گئیں۔۔تھائی لینڈ کے جنوب اور دیگر علاقے جو ’’گولڈن ٹرائی اینگل‘‘ کہلاتے ہیں، وہاں سے منشیات اسمگل کی جاتی ہے اور انہیں بنگلہ دیش اور اس سے آگے ایشیائی مارکیٹوں میں فراہم کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد پولیس نے اس دیہاتی کی والدہ کے گھر پر چھاپہ مار کر وہاں سے آٹھ بڑے تھیلوں میں بھری مزید 1.7 ملین گولیاں بھی برآمد کیں۔ بیان کے مطابق ان تمام نشہ آور گولیوں کی مجموعی مالیت 3.6 ملین ڈالرز کے برابر بنتی ہے۔۔میانمار کے ادارہ برائے انسداد منشیات کے ایک اہلکار نے خبر رساں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان گرفتاریوں کی تصدیق کی۔ اس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’’دو افراد کی گرفتاری کی بعد ان سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں ہم نے چھاپہ مارا اور وہاں سے بھاری مقدار میں میتھ کی گولیاں برآمد کیں۔

‘‘خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تھائی لینڈ کے جنوب اور دیگر علاقے جو ’’گولڈن ٹرائی اینگل‘‘ کہلاتے ہیں، وہاں سے منشیات اسمگل کی جاتی ہے اور انہیں بنگلہ دیش اور اس سے آگے ایشیائی مارکیٹوں میں فراہم کیا جاتا ہے۔گزشتہ برس اگست میں روہنگیا باشندوں کے خلاف میانمار کی فوج کے ’بہیمانہ‘ آپریشن اور وہاں سخت سکیورٹی صورتحال کے باوجود منشیات کی اسمگلنگ اس علاقے سے جاری رہی۔