ماہرین تعلیم کا سب سے بڑا جہاد کر پشن سمیت تمام معاشرتی برائیوں کیخلاف شعور و آگاہی کی ترویج کرنا ہے

نیب بلوچستان کے زیر اہتمام کرپشن کے خاتمے میں ماہرین تعلیم کا کردار سے متعلق تقریب میں مقررین کا خطاب

بدھ مئی 22:53

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) درس و تدریس کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی اساس ہوتا ہے ، عصر حاضر میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ماہرین تعلیم کا سب سے بڑا جہاد مستقبل کے معماروں کی صحیح خطوط پر رہنمائی کرتے ہوئے ، کرپشن سمیت تمام معاشرتی برائیوں کے خلاف شعور و آگاہی کی ترویج کرنا ہے،طلبہ کی ذہن سازی میںاساتذہ کا کردار کلیدی ہے، تعلیم و تر بیت کے چراغ ان معماروں کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈا ئر یکٹر آگاہی و تدارک کرپشن نیب بلوچستان ، پرنسپل گرلز کالج جنا ح ٹائون کوئٹہ ڈا کٹر شگفتہ اقبال اور دینی اسکالر ڈا کٹر قار ی عبدالرشید نے قومی احتساب بیورو بلوچستان کے زیر اہتمام "کرپشن کے خاتمے میں ماہرین تعلیم کا کردار " کے حوالے سے تعمیر نو پبلک کالج میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہا درس و تدریس کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی اساس ہوتا ہے، اس شعبہ کی افادیت اس لئے بھی کلیدی ہے کہ اس میں مستقبل کے معماروں کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کیا جا تا ہے یہ تعلیم و تر بیت کے چراغ ان معماروں کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں، سکول ، کالجز میں تدریس کا زمانہ طلبہ کا سیکھنے اور کردار سازی کا زمانہ ہوتا ہے، اگر اس دوران معاشرتی برائیوں کے خلاف ان اذہان کی صحیح خطوط پر رہنمائی کی جائے تو انہیں دنیا کی کوئی طاقت گمراہ اور کرپشن جیسی لعنت کی طرف مائل نہیں کر سکتی۔

مقررین نے کردار سازی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ چاہے فزکس پڑھائیں ، کمیسٹری یا بائیولوجی پڑھائیں لیکن دوران پڑھائی چند منٹ اپنے طلبہ کے ساتھ تربیتی سیشن کے لئے ضرور مختص کریں ، ایمانداری، راست گوئی ، صراط مستقیم پر چلنے کی تلقین صرف اسلامیات کے استاد کی ذمہ داری نہیں ، نیوٹن کا قانون پڑھانے والا استاد بھی اپنے طلبہ کو یہ سبق دھرا سکتا ہے کہ بچو حلال میں برکت ہے اور حرام کا ایک لقمہ تمہیںجہنم کا ایندھن بنائے گا۔

یہ تعلیم و تربیت کا امتزاج طلباء کو زندگی گزارنے کا نہ صرف ڈھنگ سکھائے گا بلکہ یہ اُن کے لئے مشعلِ راہ ہو گا۔مقررین نے بلوچستان میں تعلیم کے میدا ن میں نمایاں شخصیت پروفیسر فضل حق میر صاحب مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا بلوچستان میں علم کا جو نور پھیلا ہے اس علمی میدان میں فضل حق میر صاحب مرحوم سے آگے بڑھی ہوئی کوئی شخصیت نہیں۔

انہوں نے کہا انکی ساری زندگی کی جدوجہد کا منتہائے مقصد علم کے چراغ فروزاں کرنا تھا ،وہ علم جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے حقوق سکھاتا ہے، وہ علم جو ایمنا داری کا درس دیتا ہے ، وہ علم جو قناعت اور اللہ کی تقسیم پر راضی بناتا ہے وہ علم جو حلال و حرام کی تمیز پیدا کرتا ہے اور وہ علم جو پیسے کی حرص ختم کر کے فلاح انسانیت کی خدمت سے سر شار بناتا ہے ۔

قبل ازیں ڈائر یکٹر نیب نے کہا کہ قومی احتساب بیورو اپنی سہہ جہتی حکمت عملی کے ساتھ کرپشن کے خاتمے اور کرپٹ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے اپنا قومی فریضہ تند دہی سے سر انجام دے رہا ہے ۔ کرپشن کے مضمرات سے آگاہی اور بد عنوانی کے خلاف شعوری مہم اس حکمت عملی کا سب سے اہم جزو ہے۔ قومی احتساب بیورو یہ سمجھتا ہے کہ بد عنوانی کے خلاف عوامی شعور انتہائی ضروری ہے اس مقصد کے لئے معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ کرپشن کیخلاف آگاہی کے حوالے سے مختلف پروگرامز ترتیب دئیے جاتے ہیں،یہ تقریب بھی اس حکمت عملی کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے کہا آج کی نشت کے انعقاد کی خاص بات پرو فیسر فضل حق میر آغا جان کی بلوچستان میں شعبہ تعلیم میں خدمات کو خراج ِ عقیدت پیش کرنا ہے۔