قومی اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث جاری ،اپوزیشن نے بجٹ کو ڈنگ ٹپائو بجٹ قرار دیدیا

ہندسوں کا ہیر پھیر کرکے آئینی تقاضے کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی این ایف سی کے بغیر بجٹ غیر آئینی ہوتا ہے،لوڈ شیڈنگ سے صرف پنجاب کو ااستثنیٰ حاصل ہے باقی صوبوں میں 12سی14گھنٹے آج بھی لوڈ شیڈنگ ہے،بھارت میں 27فصلوں کو جبکہ پاکستان میں صرف ایک فصل کو سپورٹ پرائس دی جاتی ہے، پاکستان میں زیادہ نہیں تو کم از کم 6اہم فصلوں کو سپورٹ پرائس دی جائے،پاکستان میں بدقسمتی سے ڈیموں پر سیاست کی جاتی رہی اور اب بھی کی جا رہی ہے،بجٹ میں غریب آدمی کے استعمال کی چیزوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا،بجٹ میں بے روزگاری کی روک تھام اور نئی نوکریوں کیلئے نیا پیکج نہیں دیا گیا، پاکستان کی معیشت کو جتنا نقصان اسحاق ڈار نے پہنچایا ماضی میں کسی وزیرخزانہ نے نہیں پہنچایا، بجٹ میں کسانوں کو ریلیف دینے کی بجائے کھادوں پر سبسڈی کو ختم کر دیا گیا،مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کا اظہار خیال

بدھ مئی 23:07

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث چھٹے روز بھی جاری رہی جس میں اپوزیشن نے بجٹ کو ڈنگ ٹپائو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندسوں کا ہیر پھیر کرکے آئینی تقاضے کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی این ایف سی کے بغیر بجٹ غیر آئینی ہوتا ہے،لوڈ شیڈنگ سے صرف پنجاب کو ااستثنیٰ حاصل ہے باقی صوبوں میں 12سی14گھنٹے آج بھی لوڈ شیڈنگ ہے،،بھارت میں 27فصلوں کو جبکہ پاکستان میں صرف ایک فصل کو سپورٹ پرائس دی جاتی ہے، پاکستان میں زیادہ نہیں تو کم از کم 6اہم فصلوں کو سپورٹ پرائس دی جائے،،پاکستان میں بدقسمتی سے ڈیموں پر سیاست کی جاتی رہی اور اب بھی کی جا رہی ہے،،بجٹ میں غریب آدمی کے استعمال کی چیزوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا،،بجٹ میں بے روزگاری کی روک تھام اور نئی نوکریوں کیلئے نیا پیکج نہیں دیا گیا، پاکستان کی معیشت کو جتنا نقصان اسحاق ڈار نے پہنچایا ماضی میں کسی وزیرخزانہ نے نہیں پہنچایا، بجٹ میں کسانوں کو ریلیف دینے کی بجائے کھادوں پر سبسڈی کو ختم کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

بدھ کو قومی اسمبلی میں مالی سال2018-19کے بجٹ پر عام بحث مسلسل چھے روز بھی جا ری رہی۔۔بجٹ پر بحث کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی رمیش لعل نے کہا کہ آج بھی سندھ میں اٹھارہ گھنٹے بجلی بند ہے اسلام آباد میں بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے،،شہباز شریف کو ابھی سندھ یاد آرہا ہے سندھ میں ایک موٹر وے نہیں دیا گیا کراچی حیدر آبادروڈ کو مو ٹر وے کا نام دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ سندھ میں پانی نہیں ہے۔

رمیش لعل نے کہا کہ جب تک ایک سندھی بھی زندہ ہوگا وہاں کوئی نیا صوبہ نہیں بنے گا یہ ڈرامے بازی ہے ۔۔مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی صبیحہ نظیر نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد بہبود کا محکمہ صوبوں کو منتقل کردیا گیا لیکن اس کا وفاق میں ہونا ضروری تھا۔ دھواں دینے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر آنے سے روک دیا جائے اس وقت انڈسٹریل سیکٹر میں زیرو لوڈشیڈنگ ہے واپڈا کوئی خیراتی ادارہ نہیں کہ بغیر بل کے بجلی فراہم کرے جن علاقوں میں بجلی کی چوری ہورہی ہے وہاں پر لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اسمبلی میں کسان اور مزدوروں کی نمائندگی بھی ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے پر سیاست چمکانے والوںکو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن اسمبلی شیخ صلاح الدین نے کہا کہ آج ہماری برآمدات ختم ہوچکی ہیں ن لیگ نے چھٹا بجٹ پیش کیا جاتے ہوئے تو عوام کو ریلیف دینا چاہئے تھا لیکن انہوں نے یہ موقع بھی گنوا دیا ۔ مفتاح اسماعیل نے بجٹ میں کاروباری دوستوں کو ریلیف دیا جن لوگوںکو ایمنسٹی دینا چاہتے ہیں ان کے نام بتائے جائیں پانامہ کا بین الاقوامی انکشاف تھا ہم نے کہا تھا پارلیمنٹ میں آکر بتائیں ،یہ معاملات پارلیمنٹ کو حل کرنے چاہئیں۔

اویس لغاری بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں نیلم جہلم پراجیکٹ سے مشکل سے پچاس میگا واٹ ملا ہے۔ شیخ صلاح الدین نے کہا کہ ضرورت 24ہزار میگا واٹ بجلی کی ہے جبکہ 16 ہزار میگا واٹ پیدا کی جارہی ہے مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو کم دکھایا گیا،انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے میڈیا ٹرائل کیا ہوا ہے، جے یو آئی (ف) کی رکن اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ حکومت نے پانچ سالوں میں شدید مشکلات کا سامنا کیا ہے انہوں نے کہا کہ ہندسوں کا ہیر پھیر کرکے آئینی تقاضے کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی این ایف سی کے بغیر بجٹ غیر آئینی ہوتا ہے۔

ڈنگ ٹپائو بجٹ پیش کیا گیا سینٹ کے الیکشن میں جو کچھ ہوا کیا وہ جمہوری ملکوں میں ہوتا ہے ہمیں سسٹم کو چلنے دینا ہوگا پیوند کاری نہیں کرنی چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی امیر الله مروت نے کہا کہ ووٹ کی عزت ہونی چاہئے ہمارے دھرنے کی وجہ سے ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹا ،،سی پیک میں جنوبی اضلاع کو نظر انداز کیا گیا لکی مروت میں بیس بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔

رکن اسمبلی آسیہ ناز تنولی نے کہا کہ ن لیگ کو چھٹا بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں سی پیک کا منصوبہ بہت بڑا منصوبہ ہے نادرا کے سسٹم میں بہتری لائی گئی اس سلسلے میں نواز شریف اور چوہدری نثار کے کردار کو سراہتی ہوں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبدالستار بچانی نے کہا کہ یہ ملک زرعی ہے زراعت تباہ ہوگئی تو ملک نہیں چل سکے گا، ن لیگ کے صدر نے کہا کہ سندھ کو تباہ زرداری نے کردیا ہے آپ سندھ کو پانی نہیں دے رہے کافی علاقو ں میں پینے کا پانی نہیں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے بجلی نہیں آتی۔

تحریک انصاف کے رکن سرور خان نے کہا کہ بھارت میں 27فصلوں کو سپورٹ پرائس دی جا رہی ہے، مگر پاکستان میں صرف ایک فصل کو سپورٹ پرائس دی جاتی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ نہیں تو کم از کم 6اہم فصلوں کو سپورٹ پرائس دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کا بحران ختم کرنے کا حکومتی دعویٰ جھوٹا ہے، شہروں میں بارہ سے اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جبکہ دیہاتوں میں اٹھارہ سے زائد گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، آئین پاکستان میں شہروں اور دیہاتوں میں تقسیم نہیں ہے،70کی دہائی کے بعد ملک میں ڈیمز اور بیراج نہیں بنے،ہر سال بجٹ میں ڈیمز کیلئے پیسے رکھے جاتے ہیں مجھے نہیں پتہ کہ وہ کہاں لگائے جاتے ہیں، پاکستان میں بدقسمتی سے ڈیموں پر سیاست کی جاتی رہی اور اب بھی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں میرے حلقے کو نظرانداز کیا گیا ہے، گزشتہ پانچ سالوں میں میرے حلقے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کئے گئے،میرے حلقے میں دو ایم پی اے بھی پی ٹی آئی کے ہیں جبکہ ہم نے بلدیاتی انتخابات بھی جیتے ہیں، میرے حلقے کی عوام کو تحریک انصاف کو ووٹ دینے کی سزا دی جا رہی ہے، میرے حلقے میں بلدیاتی انتخابات ہارنے والے ترقیاتی کام کرروا رہے ہیں اور ایک شخص جو مجھ سے ہارا ہوا ہے وہ منصوبوں کا افتتاح کر رہا ہے اس کو شرم نہیں آتی۔

پیپلز پارٹی کے رکن رفیق احمد جمالی نے کہا کہ سندھ میں دیہات کو گیس کی فراہمی کے منصوبے بجٹ میں شامل کئے جائیں۔ تحریک انصاف کے عامر ڈوگر نے کہا کہ بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے، بجٹ میں مراعات صرف قومی خزانہ لوٹنے والے ڈاکوئوں کو دی گئیں، بجٹ میں غریب آدمی کے استعمال کی چیزوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا،،بجٹ میں بے روزگاری کی روک تھام اور نئی نوکریوں کیلئے نیا پیکج نہیں دیا گیا، حکومت نے قوم کو قرضوں کے بھاری بوجھ میں پھنسا دیا ہے، پاکستان کی معیشت کو جتنا نقصان اسحاق ڈار نے پہنچایا ماضی میں کسی وزیرخزانہ نے نہیں پہنچایا، ڈالر 120کا ہونے سے مہنگائی کا سیلاب آ گیا ہے، بجٹ میں کسانوں کو ریلیف نہیں دیا گیا بلکہ کھادوں پر سبسڈی کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔