میرپورخاص ڈویژن کے تینوں اضلاع میرپورخاص عمرکوٹ اور تھرپاکر میں زرعی اور پینے کے پانی کی قلت سنگین صورت اختیار کرگئی

صورت حال کے خلاف علاقے کی کاشتکار تنظیمیں میرپورخاص میںآج 10 مئی کو احتجاجی کیمپ لگائیں گی

بدھ مئی 23:19

جھڈو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) میرپورخاص ڈویژن کے تینوں اضلاع میرپورخاص عمرکوٹ اور تھرپاکر میں زرعی اور پینے کے پانی کی قلت سنگین صورت اختیار کرگئی ہے اور حالات فسادات کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے ہیں ۔اس صورت حال کے خلاف علاقے کی کاشتکار تنظیمیں میرپورخاص میںآج 10 مئی کو احتجاجی کیمپ لگائیں گی جس میں ہزاروں افراد کے شرکت کی توقع ہے ، اس احتجاج میں آبپاشی کا نظام رینجرز کے حوالے کرنے کامطالبہ کیاجائے گا ۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ڈھائی ماہ سے سندھ کے جنوبی علاقوں میں پانی کی قلت کا مسئلہ سنگین تر ہوگیا ہے اور نہروں میں دریائی پانی کی فراہمی میں اضافے کے باوجود ٹیل کے علاقوں میں پانی کی صورت حال میں کوئی بہتری نہیں ہوئی ۔ تھرپارکر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی کے علاوہ میرپورخاص کے دیگر علاقوں جھڈو ڈگری ٹنڈوجان محمد میرواہ گورچانی ٹالھی نبی سر روڈ کنری نوکوٹ اور میرپورخاص شہر میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے ، زیریں سندھ میں کاشتکار لاکھوں ا یکڑ ایراضی کپاس مرچ اور سبزیوں کی کاشت نہیں کرسکے اور پانی نہ ہونے کے باعث آم اور کیلے کے باغات بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور عوام کے مویشیوں اور دیگر حیات کیلیئے بھی پینے کا پانی ناپید ہے۔

(جاری ہے)

کاشت کاروں کے مطابق پانی کی کمی کی وجہ پانی چوری اور کرپشن ہے اور بد انتظامی کے باعث نہروں کے ابتدائی (منڈ ) حصوں میں با اثر اپنے حصے سے کئی گنا زائد پانی لے رہے ہیں ۔ آبادگار ایکشن کمیٹی میرپورخاص کی اپیل پر 10 مئی کو میرپورخاص میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا جسکی حمایت ٹیل آبادگار ایسوسی ایشن۔فارمرز آرگنائیزیشن کونسل سندھ اور دیگر کاشتکار تنظیموں نے کی ہے