موجودہ حکومت نے بجٹ میں عوام کو ٹیکسوں میں91ارب 17کروڑ روپے کا ریلیف دیا ہے، شیخ محمد فاروق

یہ بات خوش آئند ہے کہ نئے بجٹ میں انکم ٹیکس افسران کے صوابدیدی اختیارات ختم کردیئے گئے ہیں

بدھ مئی 23:21

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) موجودہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو ٹیکسوں میں91ارب 17کروڑ روپے کا ریلیف دیا ہے ۔ یہ بات پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن کے زونل چیئرمین شیخ محمد فاروق اللہ والا زونل وائس چیئرمین ہمایوں عبدالحق نے منگل کو میڈیا سے گفتگو میں کہی۔ تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ نئے بجٹ میں انکم ٹیکس افسران کے صوابدیدی اختیارات ختم کردیئے گئے ہیں اس کے علاوہ ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی والوں کو ٹیکس سے مستثنٰی قرار دیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل 34ہزار ماہانہ آمدنی والے یعنی 4لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس تھا لیکن نئے بجٹ میں 12لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ زراعت کے لئے سہولتوں میں زرعی قرضوں کا ہدف 1100ارب روپے اور کھاد پر سیلز ٹیکس کی یکساں شرح کا نفاذ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ کے لئے تنخواہوں اور پینشنوں میں 10 فیصداضافہ کردیا گیا ہے اس کے علاوہ کینسر کی ادویات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کے ان مالیاتی اقدامات سے معیشت میں ترقی اور مضبوطی ہوگی جس کا واضح ثبوت گذشتہ پانچ سالوں میں ملکی معیشت کی ترقی کی رفتار ہے جو سالانہ5 فیصدسے زائد رہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ توانائی کے شعبے میں نئے آبی منصوبوں اور گیس سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں سے توانائی کے بحران میں کمی ہوئی ہے اور لوڈشیڈنگ میں بہت کمی آئی ہے جس سے صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوا اور اشیاء کی تجارت میں بھی اضافہ ہوا ہے اس کے علاوہ ملکی ایکسپورٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کی واضح مثال مارچ کے مہینے میں ایکسپورٹ میں 24 فیصداضافہ ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی ختم ہونے سے امن کی فضاء قائم ہونے سے بھی کاروبار اور تجارت میں اضافہ ہوا ہے انہوں نے حکومت کی عوام دوست اور ملکی مفاد پرمبنی پالیسیاں جاری رکھنے اور عمل درآمد پر زور دیا۔