اپنی ثقافت سے پیار، شعور اور آگہی کی علامت ہے، پاکستان خوبصورت ثقافتوں کا گلدستہ ہے، ڈاکٹر فوزیہ سعید

بدھ مئی 23:40

حیدرآباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) اپنی ثقافت سے پیار، شعور اور آگہی کی علامت ہے۔ پاکستان خوبصورت ثقافتوں کا گلدستہ ہے، جس کے رنگوں کی بہار اور خوشبو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ نوجوان ثقافتی روایات کے امین و محافظ ہیں ان میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میںان کی بدولت یہ قیمتی ورثہ اپنی اسی خوبصورتی کے ساتھ نسل در نسل وسعت و بقا حاصل کر سکے۔

ثقافتیں اقوام کے مابین پُل کا کردار ادا کرتی ہیں، ہمیں ایک دوسرے کی ثقافت کا احترام کرتے ہوئے خوشی کے مواقعوں کو مشترکہ طور پر منانا چاہئے ثقافت کو سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا نہایت خطرناک ہے، جس سے بچنے کی ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار ملک کی مشہور مصنفہ، متحرک ثقافتی شخصیت اور لوک ورثہ پاکستان کی سابقہ ڈائریکٹر ڈاکٹر فوزیہ سعید نے جامعہ سندھ جامشورو کے انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی میں ’’ثقافتی تحرک کا فروغ: چیلنجز اور مواقع‘‘ کے زیر عنوان لیکچر دیتے ہوئے کیا سندھ اسٹڈیز لیکچر سیریز کے تحت ًپیر حسام الدین راشدی آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں لیکچر دیتے میں ڈاکٹر فوزیہ سعید نے مزید کہا کہ ہمارے ہاں منفی چیزوں کو بھی ثقافت کا حصہ قرار دے کر ابھارنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے مختلف ذاتی مفادات لیے جاتے ہیں، جن میں نام نہاد غیرت کے نام پر کارو کاری کے واقعات بھی شامل ہیں، جنہیں کسی بھی طرح ثقافت کا حصہ نہیں کہا جا سکتا۔

(جاری ہے)

ثقافتیں محبت و امن کا پیغام دیتی ہیں، ان میں کسی معصوم و بے گناہ کا خون بہانے کی کوئی گنجائش نہیں ڈاکٹر فوزیہ سعید نے مزید کہا کہ مفادات کی اس دوڑ میں ہم خوش ہونا بھول گئے ہیں۔ ہمیں ملکر اپنی ان بھولی اور کھوئی ہوئی خوشیوں کو ری پلان کرنا ہوگا۔ ہمیں ذات پات، رنگ نسل اور مذہب کی تفریق سے ہٹ کر ساتھ ملکر ایک دوسرے کے ثقافتی دن منانے ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ ثقافت کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں سے ایک چیلنج شدت پسندانہ رویہ بھی ہے، جس سے بچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت کے مثبت پہلوئوں کو پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے، اور ناکاری پہلو جنہیں روایت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کو قابو میں لانا پڑیگاانہوں نے کہا کہ ہم سب اگر جمہوریت کو بہتر سمجھتے ہیں تو وہ ہماری ثقافت کا حصہ ہونا چاہیے۔

جیسے علم و ادب ہماری ثقافت کا حصہ بنا ہوا ہے، لیکن کارو کاری اور اس جیسے دوسرے کالے کرتوت ہماری ثقافت کا بلکل بھی حصہ نہیں ہیں، ان کو مکمل طور پر رد کرنا ہوگا۔ سماج کے سوچنے لوچنے والے سب لوگوںکو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت کو اجاگر کرنا صرف ثقافتی اداروں کی ذمیواری نہیں ہے، اس سلسلے میں ہم سب کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 70 سال گذرنے کے باوجود قومی ثقافتی پالیسی کا نا بننا باعث تشویش ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے لوک ورثہ پاکستان کے پلیٹ فارم پر اس سلسلے میں بھرپور ہوم ورک کیا اور بہت کوششیں لیں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی اداروں میں ثقافت کے ماہر لوگوں کا ہونا بہت ضروری ہے اس کے سوا بہتر نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر فوزیہ سعید نے سندھالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اسحاق سمیجو کی جانب سے یہ موقعہ فراہم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور حاضرین کے سوالات کے جوابات دیے اس سے پہلے انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اسحاق سمیجو نے اپنے استقبالیہ خطاب میں شریک تمام مہمانان کو خوش آمدید کہا اور لیکچر کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسٹڈیز کے لیکچر سیریز کے تحت کافی اہم لیکچر پروگرام منعقد کئے گئے ہیں، جن میں اپنے اپنے شعباجات میں مہارت رکھنے والے علماء و ادیبوں نے لیکچر دیے ہیں، آج کا لیکچر بھی ثقافت جیسے اہم موضوع پر ہے، جس سے حاضرین یقینی طور پر فائدہ حاصل کرینگے ڈاکٹر سمیجو نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر فوزیہ سعید کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔اس پروگرام میں نامور مصنف و ادیب نیاز ندیم بھی مہمان خصوصی کی حیثیت میں اسٹیج پر بیٹھے تقریب میں عالم و ادیب، شعراء، صحافیوں، اساتذہ اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔/م ش ش