کوئٹہ، سانحہ مستونگ کے شہداء کی یاد میں 11 مئی کو تاریخی کانفرنس منعقد ہو گی،مولانا غفور حیدر ی

متحدہ مجلس عمل کے قائد مولانا فضل الرحمان ، سراج الحق سمیت دیگر قائدین خطاب کرینگے حکومت نے اس سانحہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں اتھایا ، سیکرٹری جنرل جمعیت علماء اسلام

بدھ مئی 23:42

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدر ی نے کہا ہے کہ سانحہ مستونگ کے شہداء کی یاد میں 11 مئی کو تاریخی کانفرنس منعقد ہو گی جس سے متحدہ مجلس عمل کے قائد مولانا فضل الرحمان ، سراج الحق سمیت دیگر قائدین خطاب کرینگے حکومت نے اس سانحہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں اتھایا حتیٰ کہ مجھ سے سیکورٹی بھی واپس لے لی ہے جو افسوسناک امر ہے 2018 کے انتخابات کو صاف اور شفاف بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا حالیہ میگا کرپشن میں جمعیت علماء اسلام کا نام نہیں اس لئے بلا تفریق احتساب کا عمل ہونا چا ہئے تاکہ ملک اور قوم کی لوٹی گئی دولت واپس لائی جا سکے ان خیالات کا اظہا رانہوں نے بدھ جماعت کے صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندر خان ایڈووکیٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اس مو قع پر ایم ایم اے کے صوبائی ترجمان حافظ ابراہیم لہڑی، پارٹی کے مرکزی رہنماء حافظ بلال ،اصغر ترین ، سابق صوبائی وزیر سردار یحییٰ خان ناصر،حافظ صمد مندوخیل،اسحاق ذاکر شاہوانی ،عبدالواسع سحر سمیت جماعت کے دیگر رہنماء بھی موجود تھے، مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ ایک سال قبل 12مئی کو مستونگ کے مقام پر میںجلسہ ختم کر کے جا رہا تھا کہ مجھ پر خودکش حملہ ہوا جس میں 26 جوان شہید اور50 قریب زخمی ہو ئے واقعہ کے حوالے سے حکومت نے کی گئی کا رروائی اور تفتیش کے بارے میں آج تک آگاہ نہیں کیا کہ یہ حملہ کس نے کیا اور آنیوالے وقت میں اس طرح کے حملے کے تدارک کے لئے کیا پالیسی اختیار کی جائے گی انہوںنے کہا ہے کہ تحقیقات تو نہیں ہو سکی جبکہ حکومت نے مجھ سے سیکورٹی بھی واپس لی جو افسوسناک امر ہے مولانا غفور حیدری کا کہنا ہے کہ12 مئی کو جو شہداء ہم سے بچڑھ گئی تھے یا زخمی ہوئے تھے ان کی یاد میں جماعت نے منگچر کے مقام پر تاریخی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا یہ کانفرنس 11 مئی کو منعقد ہو گی کانفرنس سے متحدہ مجلس عمل کے سر براہ مولانا فضل الرحمان ، سراج الحق سمیت دیگر مرکزی وصوبائی قائدین خطاب کرینگے انہوںنے کہا ہے کہ یادگار پاکستان پر تحریک انصاف نے ناچ گانوں کی گونج میں جلسہ کر کے وہاں پر نوجوان لڑکیوں کونچایا ہے جس کے خلاف13 مئی کو تاریخی جلسہ کر کے یہ ثابت کرینگے کہ ناچ گانوں والوں جلسہ بڑا تھا یہ متحدہ مجلس عمل کا جلسہ بڑا ہے انہوںن ے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ ملک میں تاریخی جلسے کئے ہیں جب بھی انتخابات کا وقت آتا ہے تو ہمارے ووٹ چوری کئے جاتے ہیں جس طرح 2013 کے عام انتخابات میں کسی کو ضرورت تھی جہاں کسی کا ایک بھی ووٹ نہیں تھا لیکن وہاں پر ایسے نمائندوں کو کامیاب کرا کر ایوان میں بھیجا گیا اس لئے ہمیں2018 کے انتخابات کے حوالے سے دھاندلی کا خدشہ ہے تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ انتخابات غیر جانبدار ہونے چا ہئے اس کے لئے تمام جماعتوں کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا چا ہئے جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ ملک کی سیاس میں شائستگی کو پروان چڑھایا ہے خوف خدا اللہ کی مخلوق خدمت ہماری ترجیح ہے کسی بھی جماعت کے ماضی اس کے مستقبل کی دلیل ہو تی ہے علماء کرام نے ہمیشہ ملک اور قوم کی خیر خوا ہی کے لئے اپنے عمل اور کردار سے مثالیں قائم کی ہے اس لئے ملک کے تمام طبقات کو فرقوں میں تقسیم ہونے کے باوجود ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے تاکہ ملک بھر میں بھائی چارگی کو فروغ دے کر امن اور شائستگی کے ماحول کو پروان چڑھا کر سیاست کو پاکیزگی اور دیانت داری کے ساتھ مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا جا سکے انہوں نے کہا ہے کہ نصف صدی سے سیاست میں رہنے والی جماعتوں کے قائدین پر مختلف کرپشن کے الزامات ہے لیکن جماعت کے قائدین پر کوئی کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہو سکا اس لئے ہم حق بجانب ہیں کہ ملک کو کس جانب لے جایا جا رہا ہے جمعیت علماء اسلام کی سیاسی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جائے اور ہمارے عوامی مینڈیٹ کو چوری کرنے کی بجائے علماء کرام کی صالح قیادت کو اقتدار میں آنے دیا جائے تاکہ وہ ملک اور قوم کے اقتدار کی بھا گ دوڑ سنبھال کر پاکستان کو بحرانوں سے نکال کر نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے آگے لا سکے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سینیٹ انتخابات میںجمعیت علماء اسلام نے پشتونخواملی عوامی پارٹی کیساتھ اتحاد کر کے واضح کیا کہ ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں وہ کا غذات واپس لیں گے لیکن انہوں نے اتحاد ک خیال نہیں رکھا جس کی وجہ سے ڈپٹی چیئرمین کو ان کے ووٹ کم ملے تاہم مسلم لیگ کے امیدوار نے جمعیت کو ووٹ دیا اور یہ معلوم کرنا ہے کہ کس نے ووٹ نہیں دیا مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آنکھیں بند کر کے جو غلط فیصلہ کیا ہے بلوچستان کے عوام نے اسے مسترد کیا ہے اب الیکشن کمیشن پر منحصر ہے کہ انہوںنے عوام کے مفاد کو یا اپنی ضد کو عوام پر مسلط کرنا ہے اس موقع پر بلوچستان کے جنرل سیکرٹری ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہرنائی ،شیرانی،زیارت اور موسیٰ خیل کے حوالے سے جو فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو خود معلوم نہیں کہ ہم لوگوں نے کس طرح فیصلہ کیا بلکہ پٹواراور بلاکس جو بنائے ان کا ابھی تک الیکشن کمیشن کے حکام کو بھی سمجھ نہیں آرہی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے متنازعہ فیصلہ کیا جس سے لو گوںمیں تحفظات پائے جاتے ہیں جنہیں دور کرنا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری ہے۔