نام نہاد قوم پرستی کے نام پر بیگناہ لوگوں کوقتل کرنے والے قوم پرست نہیں دہشتگرد ہیں ، میر عبدالقدوس بزنجو

آئین پا کستان کے دائرے کار میں رہتے ہوئے کوئی بھی قوم دھارے میں شمولیت کرے تو اسے خوش آمدید کہیں گے، مسلم لیگ (ن) پنجاب سے سیٹیں جیتنے کیلئے چھوٹے صوبوں کی حق تلفی کرتی ہے، وزیراعلی بلوچستان

بدھ مئی 23:45

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) وزیراعلی بلوچستا ن میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ نام نہاد قوم پرستی کے نام پر بے گناہ لوگوں کوقتل کرنے والے قوم پرست نہیں دہشتگرد ہیں ،آئین پا کستان کے دائرے کار میں رہتے ہوئے کوئی بھی قوم دھارے میں شمولیت کرے تو اسے خوش آمدید کہیں گے مگر اپنے صوبے کو کسی صورت دہشتگردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے ،وفاق کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے بلوچستان کی ترقی متاثر ہورہی ہے ،،مسلم لیگ (ن) پنجاب سے سیٹیں جیتنے کے لئے چھوٹے صوبوں کی حق تلفی کرتی ہے، انہوں نے یہ بات بدھ کو سدرن کمانڈ اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے منعقد ہونے والی نیشنل سکیورٹی ورکشاپ بلوچستان کی اختتامی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، صوبائی وزیر سردار سرفراز چاکر ڈومکی بھی انکے ہمراہ تھے، وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان میں بہت سے وسائل ہیں صرف وژن اور سچی نیت سے کام کر نے کی ضرورت ہے جب سے حکومت سنبھالی ہے رکی ہوئی مشنری کو فعال اور درست سمت کا تعین کیا ہے جس سے صوبے میں بہتری آئی ہے اگر کوئی صیح کا م کرنا چاہے تو بلوچستان میں بہت سے مواقعے ہیں میں ماضی کی حکومتوں کی بات نہیں کرتا لیکن ہم صوبے کو مخلص انداز میں چلا رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہمیں وفاقی حکومت کی جانب سے عدم تعاون کاسامنا ہے بلوچستان کو اسکا جائز حق نہیں دیا جارہا جس کی وجہ سے ترقی کی رفتار متاثر ہورہی ہے ،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت صرف اپنی سیٹوں کے لئے ان علاقوں میں کام کر تی ہے جہاں سے وہ اگلے الیکشن میں جیت سکیںپنجاب میں اپنی سیٹیں بچانے کے لئے دوسرے صوبوں کا حق مارا جاتا ہے جو کہ ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے بلوچستان جیسے اہم صوبے کو صرف سیاسی بنیادوں پر نظر انداز کیا گیا ہے ،اگر قومی اسمبلی میں بلوچستان کی سیٹیں بڑھ جائیں تو ہمارے مسائل کے لئے موثر انداز میں آواز بلند کی جا سکتی ہے ،میر عبدالقدوس بزنجونے کہا کہ اگر دیگر معاملات میں آبادی کے حساب سے حصہ دیا جاتا ہے تو کم از کم نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ہمیں رقبے کے لحاظ سے حصہ دیا جائے تا کہ ہم اپنے صوبے میں سڑکیں تعمیر کر سکیں،انہوں نے کہا کہ ایک اجلاس میں مجھے وفاقی نمائندوں نے کہا کہ بلوچستان سے اسکیمات کے پی سی 1اور دیگر قانونی معاملات وقت پر نہ کر نے کے باعث وفاقی اسکیمات مکمل نہیں ہو پاتیں جب میں نے ان سے پوچھا کہ این ایچ اے، واپڈا تو وفاق کے ادارے ہیں انکے منصوبے کیوں وقت پر مکمل نہیں ہوتے جس کے جواب میں وہ لاجواب ہوگئے ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت سے وسائل ہیں جنہیں درست طریقے سے استعما ل کیا جائے تو وہ صوبے کی ترقی کے لئے کافی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ دہشتگردی کا سامنا ہے ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں ترقی ہو ہم اپنے ہمسایوں سے بھی بہتر تعلقات چاہتے ہیں امید ہے کہ وہ بھی مثبت تعاون کریں گے ،پر امن پا کستان اور افغانستان دونوں ایک دوسرے کے حق ہے ہمیں کوشش کر نی چاہیے کہ دوسروں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں انہوں نے کہا کہ افغانستا ن سے بلوچستان میں دہشتگردوں کی نقل و حرکت بہت زیادہ ہے ہم نے بردارنہ تعلقات کی وجہ سے اب تک سرحد پر پر باڑ نہیں لگائی تھی لیکن اب ہم اپنے دفاع کے لئے مجبور ہو کر سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں ،،کوئٹہ شہر کی سکیورٹی کے لئے بنایا جانے والا سیف سٹی منصوبہ چار سالوں سے فائلوں کی نذر تھا جس پر ہم کام شروع کر تے ہوئے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے ،سیف سٹی منصوبہ جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہوگا تمام تر آلات جدید اور دہشتگردی کی روک تھام میں کارگر ثابت ہوں گے ،وزیر اعلی نے کہا کہ بلوچستان میں قانون سازی کے حوالے سے کمزور رہا ہے ہم نے آتے ہی ضروری قانون سازی کی ہے اٹھارویں ترمیم سے حاصل ہونے والے فوائد کو استعمال میں لانے کے لئے 30سے 40قوانین جن میں سرمایہ کاری بورڈ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شب ،پبلک سروس کمیشن ترمیم جیسے قوانین بنائیں ہیں کوئٹہ پیکج کے پیسے تین سال سے بغیر استعمال کئے پڑے ہوئے تھے ،ان پیسوں سے سبزل روڈ، جائنٹ روڈ، سریاب روڈ، نواں کلی کی سڑکوں کی توسیع جیسے منصوبے شروع زمین پر شروع کئے ہیں جس سے ٹریفک کا مسئلہ کافی حدتک حل ہوگا ،اگر ہم وسائل کو صیح سمت میں استعمال کریں تو تبدیلی لائی جا سکتی ہے امید ہے آئندہ وفاقی حکومت آنے والی صوبائی حکومت سے تعاون کریگی اور بلوچستان کی ترقی میں ساتھ دی گی ،انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے دوبارہ موقع دیا تو صوبے کی ترقی کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے اور پا کستان کے آئین میں رہتے ہوئے صوبے کے حقوق کی آواز بلند کریں گے ،ہم نے 15سال سے زائد عرصے سے مذہبی اور نا م نہاد قوم پرستی دہشتگردی کا سامنا کیا ہے اگر ہمارے نوجوان بندوق اٹھا نے کی بجائی آئین میں رہ کر حقوق کی جدو جہد کرتے تو اس سے صورتحال مختلف ہو سکتی تھی نام نہاد قوم پرستی کی تحریک کے نام پر بے گناہوں کو قتل کر نے والے قوم پرست نہیں دہشتگرد ہیں خاران میں مزدوروں کوقتل کر نے والے کیا پیغام دے رہے ہیں اور کیا وہ صوبے کو بہتری کی طرف لے کرجارہے ہیں 2002سے بلوچستان میں پرتشدد واقعات، ٹارگٹ کلنگ،، اغواء برائے تاوان کے واقعات نے صوبے کی تعلیم ،ترقی ،عوامی فلاح پر کاری ضرب لگائی ،ہم سے ہمارے پڑھے لکھے طبقے کو جدا کیا گیا اور ہماری معیشت تبا ہ ہوگئی ، میرے حلقے میں ہم کسی کی فاتحہ خوانی، خوشی ، غمی میں نہیں جا سکتے تھے ،آواران میں تعلیم ختم ہوگئی ،لیکن2013 کے بعد حالات میں بہتری آئی ہے اور حکومت کی رٹ کو بحال کیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ خوشحال بلوچستان اور بلوچستان پیکج جیسے منصوبوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ،ابھی بھی پا کستان کے آئین کو مانتے ہوئے کوئی قومی دھارے میں شمولیت کرنا چاہے تو اسے خوش آمدید کہیں گے لیکن اپنے صوبے کو مزید دہشتگردوں کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑیں گے ، مذہبی یا قوم پرست کوئی بھی دہشتگرد ہو سکیورٹی فورسز کے ساتھ ملکر اسے ختم کریں ، انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے صوبے میں بہتر نتائج برآمد ہونگے اور اس سے ملکی و خطے کے حالات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی ۔