سی پیک کے لاجسٹک چیلنج پر پورا اترنے کے لئے ٹرانسپورٹیشن کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے، سی پیک کی کامیابی کے لئے تیز لاجسٹک میکنزم درکار ہے جس کے لئے پاکستان اور چین کی لاجسٹک انڈسٹریز کے درمیان تعاون ناگزیر ہے

ڈائریکٹر جنرل این ایل سی میجر جنرل مشتاق احمد فیصل کا نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب

بدھ مئی 23:31

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) ڈائریکٹر جنرل نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) میجر جنرل مشتاق احمد فیصل نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہدی ((سی پیک)) کے لاجسٹک چیلنج پر موثر طریقے سے پورا اترنے کے لئے ملک کے ٹرانسپورٹیشن کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے ، سی پیک کی کامیابی کے لئے تیز لاجسٹک میکنزم درکار ہے جس کے لئے پاکستان اور چین کی لاجسٹک انڈسٹریز کے درمیان تعاون ناگزیر ہے ۔

وہ بدھ کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے نیشنل انسٹیویٹ آف ٹرانسپورٹ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ این ایل سی نے دنیا کی معروف ٹریک بنانے والی کمپنی ڈاملر اے جی کے ساتھ پاکستان میں مرسڈیز بنز کا پلانٹ لگانے کے لئے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے ہیں جو ایک بڑی پیش رفت ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ این ایل سی سیٹلائیٹ اور جی ایس ایم ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاتے ہوئے سیف ٹرانسپورٹیشن انوائرنمنٹ پراجیکٹ پر جلد کام کریگا ۔

انہوں نے کہا کہ این ایل سی کے زیر انتظام باڈر ٹرمینلز برآمدات اور درآمدات میں معاون ثابت ہورہے ہیں ۔چینی سفارتخانے کے پولیٹیکل قونصلر جیانگ ہان نے خطاب کرتے ہوئے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو اجاگر کیا اور کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی پاکستان کے ساتھ دوستی ہمیشہ مثالی رہی ہے ۔اس موقع پر سیکرٹری منصوبہ بندی شعیب صدیقی نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی ترقی میں مثبت تبدیلی لائے گا ۔