سپریم کورٹ،بلوچستان میں پانی کی قلت سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کل صبح تک ملتوی

بدھ مئی 23:46

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے بلوچستان میں پانی کی قلت سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کل جمعرات کی صبح تک ملتوی کرتے ہوئے کہاہے کہ عدالت کوبلوچستان کی بہت فکرہے، کیوں صوبے کو خود سے حکمرانی کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی صوبے کے 6054 سکول چار دیواری اور ٹوائلٹس سے محروم ہیں،سالانہ ایک سوسکولوں کو اپ گریڈ کر نے کاہدف مقررکیا جائے تو6 ہزار سکولوں کو اپ گریڈ کرنے میں 60 سال لگیں گے، بلوچستان صوبہ دولت سے مالا مال اورمگر وہاں جھیلیں سوکھ گئی ہیں صوبائی حکومت کوفعال کرنے کی بہت کوشش کررہے ہیں،بدھ کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اورجسٹس منیب اخترپرمشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پربلوچستان کے دوسابق وزرائے اعلیٰ ثنااللہ زہری اور عبدالمالک عدالت میں پیش ہوئے ، توچیف جسٹس نے ڈاکٹرعبدالمالک سے استفسارکیا کہ آپ کے صوبے میں عوام کوبنیادی سہولیات میسر نہیں وہاں پانی کی قلت ہے سکولوں کی حالت ابترہے ہسپتالوں میں ادویات اورآلات کی کمی ہے آپ لوگ عدالتوں کوبتائیں کہ کیا آپ اپنے صوبے میں پانی کی صورتحال سے مطمئن ہیں، جہاں جھیلیں سوکھ گئی ہیں آپ نے اپنے اپنے دور میں اس حوالے سے کیا اقدامات کئے ہیں ہمیں بجٹ نہ ہونے کا ایشو نہ بتائیں کہ آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے بلکہ ان اقدامات کے بارے میں بتائیں جوآپ نے اٹھائے ہیں ، چیف جسٹس نے دونوں سابق وزراء اعلٰی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں بلوچستان کی بہت فکر ہے، اوراس سلسلے میں ہم نے صوبائی حکومت کوفعال کرنے کی بہت کوشش کی، جس پرسابق وزیراعلٰی نے بتایا کہ ہم نے بھی صوبے کے معاملات ٹھیک کرنے کیلئے بہت کوشش کی ہے لیکن لا اینڈ آرڈر کی بحالی کے بغیر کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوسکتا، تاہم ہماری کوششوں کی بدولت 2013 ء سے 2105ء تک جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے ، چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیاکہ کیا ان دنوں ہزارہ برادری کے قتل عام میں کمی ہوئی ہے بلوچستان صوبہ پسماندہ نہیںبلکہ دولت سے مالا مال ہے لیکن اسے جید لیڈر کی ضرورت ہے ،،ڈاکٹرعبدالمالک نے بتایا کہ کچھ بہتری آئی ہے اور اس وقت کلنگ 258 کم ہوکر 48 پر آگئی ہے ،جب میں وزیراعلٰی بنا تھا اس وقت فرقہ واریت کے باعث قتل وغارت گری میں 248 افراد ہلاک ہوئے تھے، میں نے پولیس میں مداخلت ختم کی تھی بے شک سابق آئی جی کو بلا کر پوچھ لیا جائے ، میں نے خواندگی بڑھانے کیلئے ایجوکیشن سیکٹر کے بجٹ کو 4 فیصد سے بڑھا کر 24 فیصد کردیا تھا ، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ بلوچستان کے 6054 اسکولوں میں چار دیواریاں اور ٹائلٹ نہیں ہیں، ا گرفرض کرلیا جائے کہ سالانہ ایک سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا تو ان چھ 6 ہزار سکولوں کو اپ گریڈ کرنے میں 60 سال لگیں گے، سابق وزیراعلٰی نے کہا کہ نئے سکولوں کو بنانے کے لیے 62 ارب روپے درکارہیں جبکہ بلوچستان کا کل بجٹ 42 ارب روپے ہوتاہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ سب یہی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس بجٹ نہیں ہے، امرواقع یہ ہے کہ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں سی سی یو اوردیگرسہولیات نہیں ہیں، جبکہ ہسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے جس کو دیکھ کر دکھ ہو تاہے ،جب میں نے وہاں جاکر دورہ کیا تو مجھے بہت دکھ ہوا ،ہسپتالوں کا عملہ کئی روز سے ہڑتال پر تھا،آپ قوم کے رہنما ہیں اوراس صورتحال کودیکھیں کیونکہ بلوچستان پسماندہ نہیں بلکہ دولت سے مالامال صوبہ ہے، اورعدلیہ حالات کی بہتری کے لئے آپ کو سپورٹ دینا چاہتی ہے، بتایا جائے،کیا بلوچستان کے لوگ سیاسی طور پر آزاد نہیں ہیں ، جس پر ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ صوبے میں غیر جانبدارانہ الیکشن ہونے چاہئیں، کیونکہ آج تک صوبے میں غیر جانبدار الیکشن نہیں ہوئے ، بلوچستان کو وفاق سے اس کا حصہ بھی نہیں ملتا، پانی کوذخیرہ کرنے کیلئے بجٹ میں ایک روپیہ بھی نہیں رکھا گیا۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس ثاقب نثار نے مکالمہ کیا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔ عبدالمالک بلوچ نے بتایا کہ پانی کی قلت کے حوالے سے ہمیں اربوں روپے درکار ہیں، ہم نے بڑے اور چھوٹے ڈیموں پر کام شروع کرایا تھا ، جس پرجسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا یہ ڈیمز بن گئے ہیں یا صرف کاغذات تک محدود ہیں سابق وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کچھ ڈیمز مکمل اور کچھ پر کام ہورہا ہے، کوئٹہ کا ڈیم 35 فیصد مکمل ہوچکا، گوادر ڈیم کا تعمیراتی کام مکمل ہوچکا۔

سماعت کے دورا ن سابق وزیراعلٰی بلوچستان ثنائواللہ زہری نے عدالت کے استفسار پربتایا کہ ہمارے آنے سے پہلے بلوچستان پتھر کے دور میں چلا گیا تھا، تاہم میرے اور ڈاکٹر عبدالمالک کے آنے کے بعد حالات میں بہتر ی آئی ہے ے، اس لئے عدالت اس حوالے سے ہماری تعریف بھی کرے،بعدازاں عدالت نیآئی جیز ایف سی وپولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے سربراہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی اور واضح کیا کہ کیس کی مزید سماعت کل جمعرات کو شام سات بجے کوئٹہ رجسٹری میں کی جائے گی جس میں سابقہ وزراء اعلی اورمتعلقہ افسران اپنی سفارشات کے ساتھ عدالت میں اپنی حاضری کویقینی بنائیں ۔