سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے مزید ایک ماہ کا وقت دے دیا

بدھ مئی 23:36

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے احتساب عدالت کو مزید ایک ماہ کا وقت دے دیا ہے۔ بدھ کو جسٹس شیح عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی خصوصی بینچ نے احتساب عدالت کی جانب سے ٹرائل مکمل کرنے کیلئے مدت میں توسیع سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ کو مزید کتنا وقت چاہیے جس پر وکیل نے کہا کہ ٹرائل اور پوائنٹس مکمل کرنے لئے تین ماہ کا وقت درکار ہوگا کیونکہ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے، جلد بازی سے ٹرائل متاثر ہونے اور ملزمان کا فئیر ٹرائل کا حق متاثر ہوسکتا ہے۔

(جاری ہے)

فاضل وکیل نے کہا کہ ہم نے پراسیکیوشن سے کہا تھا کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء اور دیگر گواہان کے بیان تینوں ریفرنسز میں اکٹھے قلمبند کرائے جائیں، 38 قانونی نکات پر جرح ہوئی ہے جبکہ واجد ضیاء اور عمران ڈوگر کے بیان پر جرح کے مزید دو سیشن ہونے ہیں۔ سماعت کے دورا ن ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب اکبرتارڑ نے عدالت کو بتایا کہ ایک ریفرنس میں 18 گواہان کے بیانات ہوچکے ہیں تاہم ایون فیلڈ ریفرنس میں ملزمان کے بیانات باقی ہیں۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے ٹرائل مکمل کرنے کیلئے توسیع کی درخواست منظور کرتے ہوئے مزید ایک ماہ کا وقت دیا۔