سندھ اسمبلی نے اپنے اجلاس کے دوران ایک مختصر وقت کے دوران تیزی سے قانون سازی کا ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا

ایوان نے بڑی عجلت میں کئی بلوں کی منظوری دیدی جس پر قائد حزب اختلاف کی جانب سے اعتراض بھی کیا گیا

بدھ مئی 23:49

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سندھ اسمبلی نے بدھ کو اپنے اجلاس کے دوران ایک مختصر وقت کے دوران تیزی سے قانون سازی کا ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا،ایوان نے بڑی عجلت میں کئی بلوں کی منظوری دیدی جس پر قائد حزب اختلاف کی جانب سے اعتراض بھی کیا گیا۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ارکان کو بل کا مطالعہ تک کرنے کا وقت نہیں دیا گیا۔۔سندھ اسمبلی نے رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرینیج کے ورک چارج اور کانٹی جنسی ملازمین کو مستقل کرنے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

صوبائی وزیر قانون و جیل خانہ جات ضیا الحسن لنجار نے بل منظوری کے لئے پیش کیا۔قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے بل کو الیکشن مہم قرار دیا۔ان کا کہنا تھا اس بل کی منظوری کے بعد نوکریاں بیچی جائینگی ،ہمیں بل پڑھنے تک کا موقع نہیں دیا گیا ،ہم بل کی مخالفت نہیں کرتے مگر طریقہ کار کی مخالفت کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

خواجہ اظہار نے کہا کہ پولنگ ایجنٹس کو نوکریاں دی جائینگی۔

بعد ازاں ایوان نے ایل بی او ڈی کے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کا بل منظور کرلیا۔ایوان نے ہوم بیسڈ ورکرز بل کی بھی متفقہ طور پر منظور ی دی ۔بل کے تحت گھروں میں قائم چھوٹی انڈسٹری میں کام کرنے والے ملازمین کو مراعات اور تحفظ دیا جائے گا۔ہوم بیسڈ ورکرز میں وہ ملازمین شامل ہوں گے جو کسی گھر میں قائم انڈسڑی میں مینو فیکچرنگ اور پروڈکشن کا کام کرتے ہوں۔

گھر کے قریب عمارت یا گیرج میں کام کرنے والے ملازمین بھی اس میں شامل ہوں گے۔بل کے تحت ایسے ملازمین کو رجسٹرڈ کیا جائے گا۔رجسٹرڈ ملازم کو سوشل سیکورٹی۔میڈیکل اور میٹرنٹی مراعات دی جائیں گی۔حکومت بل پر عمل درآمد کے لیے ایک کونسل تشکیل دے گی کونسل ان علاقوں میں جائے گی جہاں ہوم بیسڈ ورکرز کام کرتے ہیں انھیں رجسٹرڈ کیا جائے گا۔آجر کو پابند بنایا جائے گا کہ گھریلو ملازمین کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم تخواہ ادا کرے۔

بل کے تحت ایک فنڈ قائم کیا جائے گا جس میں آجر سے وصول رقم جمع کی جائے گی۔اس فنڈ سے ہوم بیسڈ ورکرز کو سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔سیکریٹری لیبر گورننگ باڈی کے چیئرمین ہوں گے دس ممبران کا تقرر سندھ حکومت کرے گی ،گورننگ باڈی ہوم بیسڈ ورکرز یونین اور آجر کے درمیان تنازعات کا جائزہ لے گی ۔۔سندھ اسمبلی نے کنٹریکٹ یا ایڈہاک بنیاد پر بھرتی کئے گئے ڈاکٹروں کو مستقل کرنے کا بل بھیء متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

سندھ اسمبلی نے معذور افراد کو خود مختار بنانے سے متعلق بل کو بحث سے قبل ایوان کی خصوصی کمیٹی کے سپرد کردیا ۔ سندھ اسمبلی نے صوبائی موٹر وہیکل ترمیمی بل اورکنٹریکٹ ویٹرنری ڈاکٹرز کو مستقل کرنے کا بل بھی منظور کرلیا یہ بلز بھی صوبائی وزیر قانون ضیا الحسن لنجارنے پیش کئے تھے، واضح رہے کہ گورنر سندھ نے ڈاکٹرز کی مستقلی سے متعلق بل پر اعتراض لگا کر اسے واپس کیا تھا۔

گورنر کا اعتراض یہ تھا کہ جہاں ڈاکٹر کی تقرری ہوئی اسے وہاں ہی مستقل طور پر رکھا جائے۔ وزیر قانون نے کہا کہ گورنر کا اعتراض مان لیتے ہیں لیکن کسی بھی ڈاکٹر کو ہمیشہ کے لیے ایک ہی جگہ نہیں رکھ سکتے۔بعدازاں ایوان نے اس بل کی منظور ی دیدی جس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔