دو برس قبل بنوں جیل پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سندھ کی جیلوں کی سیکوریٹی سخت کردی گئی تھی ،

وزیر جیل خانہ جات جیلوں میں اصلاحات کی ہیں،پہلے گڑ چائے اور روٹی قیدیوں کو ملتی تھی ،ہم نے قیدیون کو فل ناشتہ دیناشروع کیا ہے انڈہ بھی ملتا ہے، منظور وسان انشااللہ جب یہ لوگ جیل جائینگے تو انہیں انڈے ملیں گے ،ہم نے جیل میں اٹیچ باتھ بنائے ہیں،مئی جون میں یہ سب جیل جائینگے

بدھ مئی 23:49

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سندھ کے وزیر جیل خانہ جات ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ دو برس قبل بنوں جیل پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سندھ کی جیلوں کی سیکوریٹی سخت کردی گئی تھی اور سینٹرل جیل کراچی،، حیدرآباد اور سکھر کو حساس قرار دیا جاچکا ہے ۔بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ جیل کانہ جات سے متعلق ارکا ن کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بنوں جیل پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد آئی جی جیل کانہ جات سندھ،، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام اور آئی جی سندھ پر مشتمل ایک کمیٹی نے سندھ کی جیلوں کی سکوریٹی سخت کرنے کی سفارش کی تھی جس کے بعد کئی جیلوں کو حساس بھی قرار دیدیا گیا ۔

وزیر جیل کانہ جات سندھ نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ کرمنل پراسیکیوشن 2007ء میں ایک آرڈی ننس کے ذریعے قائم کیا گیا تھا جسے بعد میں محکمہ قانون کے ماتحت کردیا گیا بعد ازاںسندھ پراسیکیوشن ایکٹ 2009ء سندھ اسمبلی سے پاس کیا گیا ۔

(جاری ہے)

وزیر جیل خانہ جات نے بتایا کہ سندھ میں نئی عدالتوں بشمول انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں اور دیگر خصوصی عدالتوں کے قیام کے بعد صوبے میں پراسکیوٹرز کی شدید قلت پیداہوگئی تھی اس لئے 2016ء میں پراسیکوٹرز کی 258 اسامیاں پیدا کی گئیں جن میں خصوصی عدالتوں کے 170 اسسٹنٹ پراسکیوٹرز بھی شامل ہیں جبکہ حال ہی میں سندھ پبلک سروس کمیشن کی سفارش پر 176 اسسٹنٹ پراسیکیوٹرز جنرل بھرتی کئے گئے ہیں اور انہیںانسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں تعینات کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں 143اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز( گریڈ 17)، ایک ڈسٹرکٹ پبلک پرسیکیوٹرز جنرل (گریڈ19)، 12ڈپٹی پراسیکیوٹرز جنرل (گریڈ18) کی بھرتی کا عمل کمیشن کے ذریعے جاری ہے جو جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ کئی پراسکیوٹرز کو اگلے گریڈوں میں ترقی بھی دی گئی ہے جبکہ یو ایس ایڈ پروگرام کے تحت280 پراسیکیوٹرز کو جن میں خواتین بھی شامل ہیں غیر ملکی ماہرین نے تربیت بھی فراہم کی ہے۔

ایم کیو ایم کے رکن قمر عباس رضوی نے کہا کہ کراچی سینٹرل جیل میںچند خطرناک قیدیوں کی وجہ سے پانچ لاکھ کی آبادی متاثر ہے ،سینٹرل جیل کی وجہ سے رات کو راستے بند کردئیے جاتے ہیں،علاقے میں ایمبولینس بھی نہیں آسکتی ،،موبائل فون سروس اور فون کی سہولت علاقے میں نہیں ہے۔ ضیاالحسن وزیرجیل خانہ جات نے کہا کہ ضلع ٹھٹھہ میں جھرک کے مقام پر خطرناک قیدیوں کے لیے الگ جیل بنارہے ہیں جس پر مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ دس سال بعد بھی وزیر صاحب یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم الگ جیل بنارہے ہیں گزشتہ دس سال کے دوران یہ الگ جیل کیوں نہیں بنی ۔

نصرت سحر عباسی دہشت گرد ان سے زیادہ تربیت یافتہ ہیں،،سندھ میں قیدی سرنگ بناکر بھاگ جاتے ہیں ۔جس پر وزیر جیل خانہ جات نے کہا کہ جیل تو امریکہ اور رشیا میں بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ اس موقع پر اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ منظور وسان جیل میں بھی رہے اور جیل کے وزیر بھی رہے ۔جس پر منظور وسان بولے ہم نے جیلوں میں اصلاحات کی ہیں،پہلے گڑ چائے اور روٹی قیدیوں کو ملتی تھی ،ہم نے قیدیون کو فل ناشتہ دیناشروع کیا ہے انڈہ بھی ملتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انشااللہ جب یہ لوگ جیل جائینگے تو انہیں انڈے ملیں گے ،ہم نے جیل میں اٹیچ باتھ بنائے ہیں،مئی جون میں یہ سب جیل جائینگے ،،جیل جاکر سہولیات دیکھ کر یہ ہماری تعریف کرینگے۔نصرت سحر عباسی نے کہا کہ جیل ہم نہیں بلکہ یہ لوگ خود جائیں گے۔