بجٹ میں تعلیم، صحت اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی، اساتذہ فروغ تعلیم کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ درس وتدریس کا پیشہ انتہائی مقدس ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجوکا تقریب سے خطاب

بدھ مئی 23:10

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ محدود مدت کے باوجود زیادہ سے زیادہ کوشش ہے کہ عوامی مسائل سنوں اور ان کو حل کروں، این ٹی ایس میں اگر کوئی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تو ان کی انکوائری کی جائے گی، اساتذہ فروغ تعلیم کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ درس وتدریس کا پیشہ انتہائی مقدس ہے، جس سے قومیں بنتی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے این ٹی ایس پاس کرنے والے مرد وخواتین میں تعیناتی کے آرڈر تقسیم کرنے کی تقریب میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر تعلیم طاہر محمود خان، چیف سیکریٹری بلوچستان اورنگزیب حق اور سیکریٹری تعلیم نورالحق بلوچ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ واضع رہے کہ مختلف اضلاع کے 427مرد وخواتین جنہوں نے 2015ء میں این ٹی ایس پاس کیا مگر انہیں تعینات نہیں کیا گیا جس پر وزیراعلیٰ نے نوٹس لیتے ہوئے اور میرٹ پر پورا اترنے والے این ٹی ایس پاس امیدواروں کی جلد تعیناتی کے احکامات جاری کئے تھے ۔

(جاری ہے)

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے این ٹی ایس پاس کرنے والے اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی ہے اور جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے ہمیں اس کا احساس ہے کیونکہ جو آپ کا حق تھا وہ وقت پر نہیں ملا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کھلی کچہری کے دوران کچھ این ٹی ایس پاس خواتین میرے پاس آئیں جس کا میں نے فوری نوٹس لیا اور جتنے بھی امیدوار میرٹ پر پورا اترتے تھے ان کی تعیناتی کے احکامات جاری کئے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ میں اپنے ہاتھوں سے ان لوگوں کو تعیناتی کے لیٹر دے رہا ہوں اگر ابھی بھی کسی کے ساتھ این ٹی ایس میں زیادتی ہوئی یا بے قاعدگی ہوئی ہے تو اس کی انکوائری کی جائے گی تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ این ٹی ایس والوں کے لئے وہ جماعتیں آواز اٹھارہی ہیں جنہوں نے خود اپنے دور حکومت میں ان کے لئے کچھ نہیں کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے این ٹی ایس پاس لوگوں کو سنا کیونکہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں اور مجھ تک سب کی رسائی ہے اور جتنا ہوسکے میں عوام کی خدمت کروں گا اور یہ کوئی احسان نہیں بلکہ آپ کا حق ہے۔ وزیراعلیٰ نے اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے فرائض ایمانداری اور محنت سے ادا کریں کیونکہ آپ محض نوکری نہیں کررہے بلکہ آپ کے کندھوں پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اساتذہ کا احترام ہم سب پر فرض ہے ہمیں انہیں ان کا وہ مقام ومرتبہ دیں گے جس کے وہ حقدار ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آنے والے بجٹ میں تعلیم،، صحت اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں لائق اور ذہین طلباء وطالبات کے لئے ایسا پروگرام رکھا جائے گا جس کے ذریعہ انہیں ملک کے کسی بھی بہتر ادارے میں تعلیم دلوائی جاسکے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت آنے والے بجٹ میں صحت کے شعبہ میں کینسر، ہیپاٹائٹس اور گردوں کے مریضوں کے لئے پروگرام متعارف کرائے گی جہاں ان کا علاج حکومت کے خرچ پر ملک کے کسی بھی ہسپتال میں کیا جاسکے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ غریب بچے جو امتحانات میں اپنی فیس ادا نہیں کرسکتے حکومت ضلعی سطح پر ان بچوں کی مالی معاونت کرے گی تاکہ وہ امتحان دے سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود ہماری کوشش ہے کہ عوام دوست بجٹ پیش کریں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم سب کو قومیت اور لسانیت سے بالاتر ہوکر صوبے اور ملک کی ترقی کے لئے مل کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارا صوبہ اور ملک ترقی کرسکے۔ بعدازاں وزیراعلیٰ نے مرد وخواتین اساتذہ کی تعیناتی کے آرڈر تقسیم کئے۔ تقریب سے وزیرتعلیم طاہر محمود نے بھی خطاب کیا۔