حافظ نعیم الرحمن کی صدارت میںمتحدہ مجلس عمل کراچی کی کابینہ پہلا اجلاس

اجلاس میں شہر کے دیرینہ اور اہم عوامی مسائل پر تبادلہٴ خیال ،صوبائی و بلدیاتی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی نااہلی و ناقص کارکردگی کی شدید مذمت کی گئی

جمعرات مئی 00:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) جماعت اسلامی کراچی کے امیر و متحدہ مجلس عمل کراچی کے نومنتخب صدر حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت ادارہ نورحق میں مجلس عمل کراچی کی کابینہ پہلا اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں مجلس عمل کراچی کے تمام عہدیداران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں کراچی کے دیرینہ اور اہم عوامی مسائل بالخصوص بجلی ، پانی کے بحران ، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی ، صحت و تعلیم اور صفائی ستھرائی کے ناقص انتظام پر تبادلہٴ خیال کیا گیا اور صوبائی و بلدیاتی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی نااہلی و ناقص کارکردگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہریوں کو درپیش مشکلات اور پریشانیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد اور کوشش کی جائے گی اورباطل قوتوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ادارہ نورحق کو متحدہ مجلس عمل کراچی کا مرکزی دفتر بھی قراردیا گیا اور اجلاس کے بعد میں پرچم کشائی کی گئی اور مجلس عمل کا جھنڈا لہرایا گیا ۔بعد ازاں متحدہ مجلس عمل کراچی کے صدر حافظ نعیم الرحمن نے متحدہ مجلس عمل کی کابینہ کے ارکان کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ مجلس عمل شہر کراچی میں متبادل قیادت کی صورت میں سامنے آئے گی اور کراچی کے عوامی مسائل کے حل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی ۔

انہوں نے کہاکہ شہر کراچی مسائلستان بنا ہوا ہے ، صوبائی و شہری حکومت صرف کراچی کو لوٹنے میں مصرو ف ہیں ، کراچی کا کوئی والی وارث نہیں ہے ، شہر میں حکوت کرنے والوں نے کراچی میں تعمیر کے بجائے ہمیشہ تخریب کا کام کیا ، کراچی میں اس وقت ایک بڑا مسئلہ کے الیکٹرک کا ہے ، وزیر اعظم کی جانب سے گیس کی فراہمی کے باوجود کے الیکٹرک نے شہریوں کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے ، رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی کے الیکٹرک نے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی لوڈشیڈنگ کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے جو حکومت کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں اس وقت کے الیکٹرک کے ساتھ ساتھ پانی کی عدم فراہمی بھی ایک اہم اور سنگین نوعیت کا مسئلہ بن چکا ہے ، پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم دونوں پارٹیوں نے پانی کی فراہمی کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے ،متحدہ مجلس عمل کراچی کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے مل کر جدوجہد کرے گی اورشہر میں متبادل قوت کی صورت میں سامنے آئے گی۔

انہوں نے کہاکہ ایم ایم اے بلوچستان کے جنرل سکریٹری علی محمد ابو تراب کو لاپتہ کرنا قابل مذمت ہے ، کئی مہینوں سے لاپتہ ہیں ، المیہ یہ ہے کہ دین اسلام اور اقامت دین کی جدوجہد کرنے والے شخص کے ساتھ اس طرح کرنا قابل افسوس عمل ہے ،متحدہ مجلس عمل کے تحت 11مئی کو کراچی پریس کلب پر علی محمد ابو تراب کی بازیابی کے لیے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ 12مئی 2004اور 12مئی 2007بد ترین دن ہے جس میں مشرف کی سرپرستی میں ایم کیو ایم کے دہشت گردوں نے ضمنی انتخابات میں شہریوں پر گولیاں برسائی تھیں جس کے نتیجے میں درجنوں شہری شہید ہوئے تھے ۔ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی 12مئی کا دن کس منہ سے منائے گی جبکہ پیپلز پارٹی 2008سے 2017تک حکومت کرتی رہی اور 12مئی کے دہشت گردوں کو گرفتا رنہیں کرسکی ۔

انہو ں نے کہاکہ متحد ہ مجلس عمل 12مئی کے حوالے سے اپنا مؤقف اور لائحہ عمل جلد پیش کرے گی ۔اس وقت رمضان المبارک کی آمد ہے اس حوالے سے شہر بھر میں رابطہ عوام مہم ، دعوت افطار کا اہتمام ، درس و تدریس اور منبر محراب سے اسلامی تشخص کی بحالی کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ لادین اورسیکولرلابی ملک سے اسلامی قوانین کا خاتمہ کرنا چاہتی ہیں اور فواحش و منکرات کو عام کرنا چاہتی ہیں ، متحدہ مجلس عمل اس عزم کا اظہا ر کرتی ہے کہ ہم سیکولر لابی کی سازشیں اور عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔

انہوں نے کہاکہ کراچی پاکستان کا دھڑکتا ہوا دل ہے ، کراچی منی پاکستان ہے ، کراچی نے اسلام اور پاکستان کے تحفظ ، اسلامی شعائر کے تحفظ کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔اس کردار کو قائم رکھا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ 13مئی کو مینار پاکستان پر متحدہ مجلس عمل کا تاریخی جلسہ منعقد ہوگا ، ہم 13مئی کے جلسے پر اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جلسہ فاسد نظریات کو شکست فاش دے گا ۔

اجلاس میں ایم ایم اے کراچی کے جنرل سکریٹری مستقیم نورانی ، نائب صدور سید حماد اللہ شاہ ،سید عامر نجیب ،ڈپٹی سکریٹریز مسلم پرویز ، عبد الوہاب ، احسان اللہ ٹکروی ،سکریٹری اطلاعات محمد اشرف قریشی ، سکریٹری مالیات مولانا محمد غیاث، جماعت اسلامی کراچی کے سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری دیگر بھی موجود تھے۔#