بھارت نواز سیاست دانوں کا کل جماعتی اجلاس لاحاصل مشق ہے، میر واعظ عمرفاروق

جمعرات مئی 11:50

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیرمیںحریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے بھارت نواز سیاست دانوں کا کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کومحض ایک دھوکہ اور لاحاصل مشق قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اب نہتے کشمیریوں کے قتل عام کے ذمہ دار بھارت نواز سیاست دان اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے جو سرینگر میں اپنے گھر پر نظربند ہیں ایک بیان میںبھارت نواز سیاست دانوں کا کل جماعتی اجلاس طلب کئے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال انہی بھارت نوازسیاست دانوں کی دین ہے کیونکہ کشمیر میں کالے قوانین کا نفاذ ، بھارتی فورسز کو حاصل بے پناہ اختیارات اور پورے کشمیر کو ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے اورنہتے شہریوں کے قتل عام کے یہی لوگ ذمہ دار ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب سے کشمیرمیں پی ڈپی اور بی جے پی کی مخلوط کٹھ پتلی انتظامیہ بر سر اقتدار آئی ہے تب سے نہتے کشمیریوں کے قتل عام میں تیزی آگئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ دنوں شوپیاں میں سات نہتے کشمیریوں کو شہید کرنے والے بھارتی فورسز کے اہلکاروں کو پولیس کے سربراہ نے شاباشی دی تاہم نہ تو اس قتل عام کی کوئی ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی اس میں ملوث قاتلوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

انہوںنے کہاکہ کشمیری عوام طویل عرے سے مقبوضہ علاقے میں رائج تمام کالے قوانین کی منسوخی اور نہتے کشمیریوں کے قتل میںملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرر ہے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔ انہوںنے افسوس ظاہر کیاکہ صرف گزشتہ چند ماہ کے دوران بھارتی فورسز نی32 نہتے کشمیریوں کوشہید کیا گیا اور سینکڑوںزخمی ہوئے ۔

میر واعظ نے کہاکہ کشمیری عوام خاص طورپرنوجوانوںکو دیوار کے ساتھ لگا نے کیلئے انہیں گرفتار کر کے بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ حریت قائدین کو گھروں اور تھانوں میں نظربند رکھ کر انہیں اپنی پر امن سیاسی سرگرمیاںجاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ میر واعظ نے واضح کیا کہ کشمیر ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے اور اس کو فوجی طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش صرف تشدد اور غیر یقینیت کی فضا کو جنم دے گی۔

انہوںنے کہاکہ تنازعہ کشمیر کوئی مراعات یا مفادات کا مسئلہ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے جذبات اور احساسات کا مسئلہ ہے لہٰذا اسے سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ محض کل جماعتی اجلاس بلانے اور دیگر اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس سے اس جذبہ میں مذید شدت آئیگی ۔