اوچھے ہتھکنڈوں سے آزادی پسندوں کے حوصلے ہرگز پست نہیں کیے جاسکے

حریت رہنما محمد اشرف صحرائی کا غیر قانونی طور پر نظرمیر حفیظ اللہ کی گرتی ہوئی صحت پر اظہار تشویش

جمعرات مئی 11:50

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت جموں کشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے تنظیم کے غیر قانونی طور پر نظر بند رہنما میر حفیظ اللہ کی اسلام آباد قصبے کے تھانے میں گرتی ہوئی ہوئی صحت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میر حفیظ اللہ کے ساتھ کوئی ناخوشگور واقعہ پیش آیا تو اسکی تمام تر ذمہ داری کٹھ پتلی انتظامیہ پر عائد ہو گی ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محمد اشرف صحرائی نے جنہیں انتظامیہ نے سرینگر میں گھر میں نظربند کر رکھا ہے ، ایک بیان میں کہا کہ مسلسل نظر بندی کی وجہ سے میر حفیظ اللہ کی صحت خطرناک حد تک گرچکی ہے لیکن اسکے باوجود انکا علاج نہیں کرایا جا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ میر حفیظ اللہ کو 2016کے انتفادہ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد ان پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر کے مختلف جیلوں میں رکھا گیا۔

(جاری ہے)

محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ اگرچہ عدالت نے قابض انتظامیہ کی طرف سے اُن پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اُن کی رہائی کا حکم دے دیا ہے لیکن اسکے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت اسلام آباد تھانے میں نظربند ہیں جبکہ ان کے اہلخانہ کے مطابق ڈاکٹروں نے اُن کے گردے میں سسٹ موجود ہونے کی تشخیص کی ہے جس کا اگر جلد آپریشن نہ کیا گیا تو ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ میر حفیظ اللہ ذیابیطس، پراسٹیٹ اور دیگر کئی مہلک امراض میں بھی مبتلا ہیں لیکن ان کے کے کسی بھی مرض کا علاج نہیں کرایا جا رہا اور نہ ہی اُنہیں رہا کیا جا رہا۔ محمد اشرف صحرائی نے میر حفیظ اللہ کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی نظر بندیوں اور دیگر اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے آزادی پسندوں کے حوصلے ہرگز پست نہیں کیے جاسکے۔

ادھر تحریک حریت جموں کشمیر نے تنظیم کے چیئرمین جناب محمد اشرف صحرائی اور تنظیم کے رہنما محمد اشرف لایا کی مسلسل نظربندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا اسے قطعی طور پر بلا جواز قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کٹھ پتلی حکومت نے مقبوضہ علاقے کا چپہ چپہ انسانی لہو میں ڈبودیا ہے لیکن اسے اپنے چہرے پر لگے خون کے دھبے نظر نہیں آرہے۔ بیان میں عاقب گلزار بٹ ، بشیر احمد ملک اور عادل احمد کی رات کے وقت گھروں پر چھاپوں کے دوران گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے انکی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

دریں اثنا جاوید احمد خان، پرویز احمد اور سید امتیاز حیدر پر مشتمل تحریک حریت جموں کے ایک وفد نے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سرینگر میں جاوید احمد خان کی عیادت کی۔ بانڈ ی پورہ کے علاقے صدر کوٹ بالا کے رہائشی جاوید احمد خان کو چند روز قبل بھارتی فوج نے بلا جواز طور پر گرفتار کرنے کے بعد سخت جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد انہیں نیم مردہ حالت میں رات کے وقت راستے میں پھینک دیا گیا ۔ جاوید احمد خان کے سر میں شدید چوٹیں آئی ہیں اور وہ اس وقت سرینگر کے ایس ایم ایچ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔