نیب نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو طلب کرلیا

نیب نے وزیراعلیٰ پنجاب کو صاف پانی کمپنی کرپشن کیس میں 4 جون کو طلب کرلیا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 12:09

نیب نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو طلب کرلیا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 مئی۔2018ء) نیب لاہور نے وزیراعلیٰ پنجاب کو صاف پانی کمپنی مبینہ کرپشن کیس میں 4 جون کو طلب کرلیا ہے۔نیب حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو سوالنامہ بھی بھجوادیا گیا ہے۔نیب حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پنجاب حکومت کی صاف پانی کمپنی میں مبینہ طور پر اربوں روپے کے کرپشن کیس کی تحقیقات کے لیے 4 جون کو طلب کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو ایک سوالنامہ بھی بھجوایا گیا ہے، شہباز شریف اس سے قبل آشیانہ اقبال ہاﺅسنگ کرپشن کیس میں بھی نیب لاہور میں پیش ہوئے تھے۔واضح رہے کہ 4 جون کو پنجاب حکومت اپنی مدت بھی پوری کرلےگی۔یادرہے کہ نومبر2017میں لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی 56کمپنیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف دائر درخواست پر نیب،آڈیٹر جنرل پاکستان اورحکومت سے 6نومبر تک جواب طلب کیا تھا۔

(جاری ہے)

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی نظام کے باوجود 56کمپنیاں بنا رکھی ہیں، بلدیاتی اداروں کے اختیارات ان کمپنیوں کو دیکر پورے صوبے کو ہی پنجاب پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنا دیا گیا ہے اور ان کمپنیوں میں 80ارب روپے کی کرپشن ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوئی ہے لیکن درخواست دینے کے باوجود نیب نے کوئی کارروائی نہیں کی‘اپریل2018میں سپریم کورٹ نے پنجاب کی 56 کمپنیوں کے کیس میں صوبائی حکومت کو تمام ریکارڈنیب کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا تاہم مقررہ وقت میں صرف17کمپنیوں نے ہی نیب کو ریکارڈ فراہم کیا تھا۔

22جنوری 2018کو وزیراعلی پنجاب شہبازشریف آشیانہ ہاﺅسنگ سوسائٹی میں کرپشن کیس میں نیب لاہور میں پیش ہوئے تھے جس دوران ان سے ڈیڑھ گھنٹے تفتیش کی گئی تھی۔نیب کی جانب سے کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے پنجاب لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مستحق ٹھیکیدارچوہدری لطیف کا ٹھیکہ منسوخ کرکے لاہور کاسا کو ٹھیکے سے نوازا، جس سے خزانے کو 19 کروڑ 30 لاکھ روپے نقصان پہنچا جبکہ آشیانہ اقبال کا ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دینے سے قومی خزانے کو 71 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کنسلٹنسی کی مد میں انجنیئرنگ سروس پنجاب کو 19 کروڑ 20لاکھ کی منظوری دی جبکہ نیسپاک نے کنسلٹنسی کا تخمینہ 3 کروڑ 50 لاکھ روپے لگایا تھا۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے، جہاں ان سے ڈیڑھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ دوران تفتیش نیب ٹیم کی جانب سے شہباز شریف سے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی سے متعلق سوالات پوچھے گئے اور ان سے تحریری معاہدوں کی تفصیلات طلب کیں، جس پر شہباز شریف نے تمام تحریری معاہدوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی۔

پوچھ گچھ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف نے کہا تھا کہ نیب کی جانب سے تفتیش کے لیے طلب کرنے کا عمل بدنیتی پر مبنی تھا، لیکن اس کے باوجود میں نے فیصلہ کیا کہ قانون کی حکمرانی کے لئے خود کو نیب کے حوالے کروں گا۔