عوام کا پیسہ عوام پر نہیں لگے گا تو معاشرتی مسائل بڑھیں گے،

ذاتی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دیں گے تو معاشی طور پر آزاد ہوں گے نہ حالات بدلیں گے پی ٹی آئی کے رکن شہریار آفریدی کا قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

جمعرات مئی 12:42

عوام کا پیسہ عوام پر نہیں لگے گا تو معاشرتی مسائل بڑھیں گے،
اسلام آباد۔ 10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ جب اداروں کے درمیان ٹکرائو ہوگا اور ہم ذاتی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دیں گے تو ہم معاشی طور پر آزاد ہوں گے نہ حالات بدلیں گے‘ عوام کا پیسہ عوام پر نہیں لگے گا تو پھر معاشرتی مسائل بڑھیں گے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ 2018-19ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ ہم بطور مسلمان اور انسان جانور کو بھی خطرہ ہو تو اس کی بھی خیر مانگتے ہیں۔

انہوں نے قرآن حکیم کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر کام صرف اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور زندگی گزارنے کا طریقہ نبی پاکﷺ کی زندگی بطور نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ سود کے بارے میں احکامات واضح ہیں۔

(جاری ہے)

دنیا میں چرچوں پر بے انتہا پیسہ لگایا جاتا ہے جبکہ یہاں مدارس میں زیر تعلیم بچوں کے لئے بھیک مانگی جاتی ہے۔ جب اداروں کے درمیان ٹکرائو ہوگا اور ہم اپنے مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دیں گے تو ہم معاشی طور پر آزاد ہوں گے نہ حالات بدلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 60 فیصد پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غربت کی وجہ سے نوجوان تنگ آکر مختلف تنظیموں کے آلہ کار بننے کا سوچتے ہیں۔ جب جنسی زیادتیوں اور دیگر معاشرتی برائیوں کے سدباب کے لئے ہم قانون سازی نہیں کریں گے تو دشمن قوتوں کے عزائم کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں ‘ معاشرے کے محروم طبقات اور فاٹا کے لوگوں کی حق تلفی ہوگی تو وہ احساس محرومی کا شکار ہوں گے۔۔پاکستان کسی کی ذاتی میراث نہیں ہم سب کا ہے۔ جب عوام کا پیسہ عوام پر نہیں لگے گا تو پھر معاشرتی مسائل بڑھیں گے۔