لاہورکے ''سب کا باپ گروپ'' کا پنجاب پولیس کو چیلنج

سوشل میڈیا پر اس گروہ کی ہوائی فائرنگ اور تشدد کی ویڈیوز وائرل

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات مئی 12:49

لاہورکے ''سب کا باپ گروپ'' کا پنجاب پولیس کو چیلنج
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 10 مئی 2018ء) : لایور کے ''سب کا باپ'' گروپ نے پنجاب پولیس کو ڈھونڈ کر گرفتار کرنے کا چیلنج کر دیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر اس گروپ کی ہوائی فائرنگ اور تشدد کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں۔ ویڈیوز میں نوجوانوں پر تشدد کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں،یہ ویڈیوز حمزہ شہزاد ڈوگر کی آئی سی اپ لوڈ ہوئیں۔ ایس پی ظفر بلال نے کہا کہ پولیس کے پاس تاحال ایسی کوئی رپورٹ نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ تاحال ہمیں ان سے متعلق کچھ معلوم نہیں ہو سکا، ہم نے اپنی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جیسے ہی ہمیں کوئی انفارمیشن ملے گی ہم ان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ ان ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

(جاری ہے)

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ نہ تو پنجاب پولیس اب تک ان کا کھوج لگا سکی نہ ہی سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب کیے گئے 8 ہزار سے زائد کیمروں میں ان کا کوئی سُراغ مل سکا۔

سوشل میڈیا صارفین نے سوالات اُٹھانا شروع کر دئے ہیں کہ آخریہ لوگ کون ہیں اور ان کو کس کی سرپرستی حاصل ہے۔ تاحال اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکا کہ فائرنگ اور تشدد کے یہ واقعات کس علاقہ میں ہوئے اور ان کو اپ لوڈ کب کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سب کا باپ گروپ کے مرکزی کردار حمزہ شہزاد ڈوگر اور دراب حسن کو ٹریس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پہلے ان کو گرفتار کیا جائے گا جس کے بعد ہی مزید تحقیقات کی جائیں گی۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ میں تو میڈیا سے اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ وہ اس قوم اور اس ملک پر تھوڑا رحم کریں، سوشل میڈیا پر جو خرافات چل رہی ہیں اور چلتی آ رہی ہیں اگر ان کو آپ ریگولر میڈیا پر اہمیت دینا شروع کر دیں گے تو پورے ماشرے میں آپ خوف و ہراس پھیلا دیں گے جس سے لوگ خوفزدہ ہو جائیں گے۔

ایسا کر کے اس معاملے کو آپ بلا جواز طول دیں گے،یہ جو نام لیے جا رہے ہیں جو واقعات بتائے جا رہے ہیں ، ابھی تک تو یہی تصدیق نہیں ہو سکتی کہ آیا یہ اصلی نام ہے ، کیا ایسا واقعہ واقعی ہوا ہے؟ کب ہوئے ہیں، کتنا عرصہ قبل ہوئے ہیں اور ابھی ان کی کیا پوزیشن ہے؟ صوبائی وزیر نے کہا کہ میڈیا سے میں کہوں گا کہ ہمیں ان کا تعین کرنے دیں اور اس معاملے کو میڈیا پر زیادہ نشر نہ کریں، تاحال تو اس کے اصلی ہونے کا ہی تعین نہیں ہو سک رہا ، اگر الیکٹرانک میڈیا سوشل میڈیا کے پیچھے بھاگنا شروع کر دے تو پھر وہاں جیسی صورتحال ہے مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایسے ہم کسی بھی نتیجے پر پہنچ نہیں سکیں گے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب کسی کی شناخت ہو گی تب ہی اس کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم سوشل میڈیا پر آنے والی اچھی چیزوں کو دیکھیں اور بُری چیزوں سے خود کو دور رکھیں۔ رانا ثنا اللہ کی عجیب منطق پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یا درہے کہ کچھ ماہ قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں کراچی کے ایک نوجوان عدنان پاشا نے شہر کی اہم شاہراہ شارع فیصل پر فائرنگ کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کو چیلنج کیاتھا۔

کھُلے عام فائرنگ کرتے ہوئے نوجوان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خود کو پکڑنے کا چیلنج دیا جسے حکومت سندھ نے قبول کر لیا ہے۔ کچھ دن بعد ہی سندھ پولیس نے عدنان پاشا کو گرفتار کر اس کے سلاخوں کےپیچھے دھکیل دیا تھا۔