پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں،

12 اکتوبر 1999ء کے مارشل لاء کو جائز قرار دینے والوں اور پرویز مشرف کو عدالتی کٹہرے میں لایا جائے، کیپٹن (ر) محمد صفدر

جمعرات مئی 13:16

پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں،
اسلام آباد۔ 10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا ہے کہ 12 اکتوبر 1999ء کے مارشل لاء کو جائز قرار دینے والوں اور پرویز مشرف کو عدالتی کٹہرے میں لایا جائے‘ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا کہ اگر گزشتہ پانچ سالوں کے دوران میری تقریر یا بات سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر شہید حق کی راہ پر تھیں‘ عوام کی جنگ لڑ رہی تھیں‘ ان کے قاتلوں کی ضمانت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس ایوان کا جو بھی شخص وزیراعظم رہا ہے وہ ہمارے لئے قابل قدر ہے۔ قائد حزب اختلاف بھی ہمارے لئے قابل احترام ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے نامساعد حالات میں چھ بجٹ منظور کئے، کبھی دھرنے تھے اور کبھی کچھ اور، ہمیں آج فیصلہ کرکے جانا چاہیے کہ پارلیمنٹ اس ملک کا بالادست ادارہ ہوگا۔

جسٹس سعید الزمان مرحوم اور جسٹس اعجاز افضل سمیت وہ تمام جج قابل احترام ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا۔ جسٹس منیر کے فیصلے نے ایوب خان کے مارشل لاء کو جائز قرار دیا اور ان کے فیصلوں سے ملک دولخت ہوا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا آنے والے وقت میں یہ پارلیمنٹ اتنی مضبوط ہوگی جو پرویز مشرف کو وطن واپس لائے گی۔ پارلیمنٹ سب سے کمزور ادارہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 12 اکتوبر 1999ء کے مارشل لاء کو جائز قرار دینے والوں اور پرویز مشرف کو عدالتی کٹہرے میں لایا جائے۔ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کیپٹن (ر) صفدر کی تقریر میں مداخلت کرتے ہوئے رولنگ دی کہ آئین کے آرٹیکل 68 کے تحت ایوان میں ججوں کے کنڈکٹ پر بات نہیں ہو سکتی۔ کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ اس ایوان کی قائمہ کمیٹیوں کے فیصلوں کو قانون سازی کے ذریعے فوقیت دی جائے۔ ہمیں اس عہد کے ساتھ اس ایوان سے جانا ہوگا کہ ہم آپس کے لڑائی جھگڑوں سے اجتناب کریں گے۔