فیڈرل روڈ سیفٹی کمیشن کا شاندار و تاریخ ساز اقدام،ملک بھر کے کروڑوں موبائل ٹیلی فون صارفین کیلئے "آپ کا آئس کو ن ہی" کے عنوان سے انتہائی اہمیت کی حامل خصوصی شعور و آگاہی مہم کا آغاز

جمعرات مئی 13:36

فیصل آباد۔10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) فیڈرل روڈ سیفٹی کمیشن پاکستان نے شاندار و تاریخ ساز اقدام اٹھاتے ہوئے ملک بھر کے کروڑوں موبائل ٹیلی فون صارفین کیلئے "آپ کا آئس کو ن ہی" کے عنوان سے انتہائی اہمیت کی حامل خصوصی شعور و آگاہی مہم کا آغاز کر دیا ہے اور ہر صارف کو اپنے موبائل فون میں "ان کیس آف ایمر جنسی آئس کے نام سے اہل خانہ کے اہم موبائل نمبرز سیو کرنے کی ہدائت کی ہے اور کہا ہے کہ موبائل فون صارف ایک سے زیادہ اہم ترین موبائل نمبرز آئس ون ،آئس ٹو ، آئس تھری وغیرہ کے نام سے بھی سیو کر سکتے ہیں اس طرح کسی حادثہ ، ناگہانی آفت یا ایمر جنسی کی صورت میں ان نمبرز کو فوری آگاہ کیا جا سکے گا جس سے ہزاروں لاکھوں قیمتی جانیں بچانے سمیت فوری اطلاعات ، معلومات و رہنمائی کا فریضہ بھی سر انجام دینے میں مدد ملے گی۔

(جاری ہے)

کمیشن کے ترجمان نے بتایاکہ ملک بھر کے کروڑوں افراد اس وقت موبائل ٹیلی فون استعمال کر رہے ہیں۔انہوںنے بتایاکہ ایک شہر سے دوسرے شہر ، ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ یا اپنے ہی شہر میں سفر کے دوران تقریباً ہر شخص کے پاس موبائل فون موجود ہوتا ہے۔انہوںنے بتایا کہ ملک بھر میں روزانہ سینکڑوں ہزاروں روڈ ایکسیڈنٹ ، حادثات ، ناخوشگوار و اقعات ، قدرتی آفات اور نا گہا نی و غیر معمولی اقدامات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

انہوںنے بتایاکہ حادثات میں شدید زخمی ہونے والے سینکڑوں افراد کے پاس اگرچہ موبائل فونز تو موجود ہوتے ہیں لیکن ان کی حالت ایسی نہیں ہوتی کہ وہ شدید زخمی یا تشویشناک و خطرناک حالت میں اپنے اہلخانہ و دیگر پیاروں اور دوست احباب کو اپنی حالت یا حادثہ کے بارے میں آگاہ کر سکیں۔انہوںنے کہا کہ جب ریسکیو ادارے ان افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کر تے ہیں تو ان کے موبائل فونز میں اکثر اوقات سینکڑوں سے ہزاروں کی تعداد میں موبائل فون نمبرز موجود ہوتے ہیں لیکن ان سے یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ اس شخص کے حادثے یا ناگہانی واقعہ کی اطلاع اس کے کس عزیز کو کس نمبر پر دی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح دوران سفر ہارٹ اٹیک یا دیگر بیماریوں کے سنگین حملہ کی صورت میں بھی متاثرہ شخص کے اہل خانہ کو بر وقت آگاہی فراہم نہیں کی جا سکتی جس کیلئے کئی ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر پاکستان میں بھی "ہو از یور آئس " کے عنوان کے تحت آپ کا آئس (ICE) کون ہے کے نام سے "ان کیس آف ایمر جنسی " آگاہی کیلئے موبائل فونز میں نمبر سیو کرنے کی ترغیب کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے لہٰذا ملک بھر کے تمام موبائل ٹیلی فون صارفین سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اپنے موبائل میں آئس (ICE) لکھ کر اس کے آگے اپنے سب سے اہم ترین و قریبی عزیز کا نمبر سیو کریں۔

انہوںنے کہا کہ اہلخانہ کے ایک سے زیادہ اہم نمبر ہونے کی صورت میں انہیں آئس ون ، آئس ٹو ، آئس تھری ، آئس فور وغیرہ کے نام سے بھی سیو کیا جا سکتا ہے۔انہوںنے بتایاکہ آئس کے نام سے نمبر سیو کرنے کا سب سے اہم فائدہ یہ ہو گا کہ جونہی انہیں کسی حادثہ ، آفت یا ناگہانی صورت کا سامنا کرنا پڑے تو امدادی کارکن فوری طور پر اس کا موبائل اوپن کر کے آئس کے نام سے سیو کردہ نمبروں پر فون کر کے واقعہ کی اطلاع فراہم کرے اور متاثرہ شخص کے اہلخانہ و عزیز و اقارب فوری جائے حادثہ ، جائے وقوعہ یا ہسپتال پہنچ کر اس کی مناسب نگہداشت و دیکھ بھال کر سکیں۔

کمیشن کے ترجمان نے تما م موبائل فون کمپنیوں اور تمام صارفین کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں موبائل فون صارف اپنے فونز میں آئس کے نام سے ان کیس آف ایمر جنسی نمبرز سیو کر سکیں اور ان کی کسی حادثہ کی صورت میں مشکلات فوری کم کرنے میں مدد مل سکے۔