زرعی سائنسدانوں نے کلر و تھور سے متاثرہ رقبہ کوقابل کاشت بنانے کیلئے سیلائن ایگریکلچر کا جدید طریقہ متعارف کروا دیا

جمعرات مئی 13:42

فیصل آباد۔10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) زرعی سائنسدانوں نے کلر و تھور سے متاثرہ ایک لاکھ 75ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ کوقابل کاشت بنانے کیلئے سیلائن ایگریکلچر کا جدید طریقہ متعارف کروا دیاہے جس کے باعث اب کلر و تھور سے ناکارہ ہو جانیوالی اراضی پر انتہائی کم خرچ سے فصلات کاشت کرکے بہتر پیداوار کاحصول ممکن ہو سکے گا۔

(جاری ہے)

زرعی سائنسدانوں نے جدید تحقیق کے بعد اس کے کامیاب تجربہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ سیلائن ایگریکلچر ایک آسان اور سستا مگر جدید ترین طریقہ ہے جس کے ذریعے کلر و سیم کے خلاف فصلات اور ان کی موزو ںاقسام کا چنائو کیاجاتاہے۔

انہوںنے بتایاکہ اس عمل کے دوران کلر و تھور زدہ زمینوں کو قابل کاشت بنانے کیلئے زمین کی ہمواری کے دوران اوپر والی 2انچ سطح سے کلر کو ہٹا دیا جائی گا جس کے بعد بیج کے اگائو میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی نیز تر وتر حالت میں بیج کی بوائی کرنے سمیت بیج کو سطح زمین پر کم گہرائی میں ڈالاجائیگا جس سے بیج بونے کاعمل یا اگائو متاثر نہیں ہو گا۔انہوںنے بتایاکہ اس اقدام سے تقریباً پونے دو لاکھ ایکڑ ناقابل کاشت رقبہ کو قابل کاشت بناتے ہوئے بہترین نتائج حاصل کئے جاسکیں گے۔