آم کے باغبانوں کو پھل کی مکھی کے تدارک کیلئے باغات میں گرے ہوئے خراب پھل زمین میں دبانے کی ہدایت

جمعرات مئی 13:42

فیصل آباد۔10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے ماہرین زراعت نے آم کے باغبانوں کو پھل کی مکھی کے تدارک کیلئے باغات میں گرے ہوئے اور خراب پھل اکٹھے کرکے فوری باغ سے باہر زمین میں گڑھاکھود کر دبانے کی ہدایت کی ہے۔ ا س ضمن میں کسی غفلت یاکوتاہی کامظاہرہ نہ کیاجائے کیونکہ اس طرح پھل کی مکھی کاحملہ بڑھنے کاخدشہ ہو سکتاہے جس سے پیداوار متاثر ہونے کابھی احتمال ہوتاہے۔

انہوںنے کہاکہ گزشتہ سال پنجاب سے آم کی 1.29 میٹرک ٹن پیداوار حاصل ہوئی تاہم مختلف بیماریوں بالخصوص آم کی مکھی کے حملہ پرقابو پا کر ا س شرح میں کئی گنااضافہ کیاجاسکتاہے۔ انہوںنے کہاکہ باغبان باغات سے پھل کی نر مکھی کے تدارک کیلئے میتھائل یو جینال کے 6 جنسی پھندے فی ایکڑ لگائیں جبکہ مادہ مکھی کے تدارک کیلئے پروٹین ہائیڈرولائسیٹ کے محلول کو ہر دوسرے پودے پر ایک مربع میٹر کی جگہ پر سپر ے کیا اور یہ عمل ہر دس دن کے وقفہ سے دہرایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ باغبان سفارش کے مطابق پٹ سن کی بوریوں کو شیرے میں بھگوکر اُن کے اُوپر تھوڑی مقدار میں ٹرائی کلورفان کا دُھوڑا کریں اور اُن کو باغ میں سایہ دار جگہوں پر رکھیں تاکہ پھل کی مکھی کا تدارک ہوسکے ۔انہوں نے بتایا کہ آم کے باغات میں پھل کی مکھی کے کنٹرول کیلئے اس کے میزبان پودوں مثلاً ترشاوہ پھلوں ، امرود، بیر، پپیتا، بینگن ، بیل والی سبزیوں اور جڑی بوٹیوں پر بھی پھل کی مکھی کا تدارک یقینی بنایاجائے ۔

متعلقہ عنوان :