دوبئی میں ڈرون سحری گھروں میں پہنچائیں گے

اسلامی دنیا میں فراہم کی جانی والی اپنی نوعیت کی پہلی سروس ہوگی۔عرب نشریاتی ادارے کی رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 13:35

دوبئی میں ڈرون سحری گھروں میں پہنچائیں گے
دوبئی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 مئی۔2018ء) متحدہ عرب امارات میں اب رمضان المبارک کے دوران سحری کے لوازمات کی گھروں پر ترسیل کیلئے روایتی ذرائع کے بجائے ڈرون کا استعمال کیا جائے گا۔عرب نشریاتی ادارے کے مطابق دوبئی کی ایک نجی کمپنی نے شہریوں کو سحری پہنچانے کیلئے انوکھا انداز اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب شہریوں کو ان کے دروازے پر سحری کے لوازمات کی ترسیل کے لیے روایتی طریقے جیسے موٹر سائیکل یا گاڑی کے بجائے ڈرون استعمال کیے جائیں گے۔

8 بیٹریوں والے یہ ڈرون دس کلوگرام تک وزنی سحری پیکیج لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوبئی میں زیادہ تر افراد غیر مقامی ہیں جو روزگار کی غرض سے یہاں رہائش پذیر ہیں جن میں اکثریت بھارت اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے مسلمانوں کی ہے جن کیلئے علی الصبح سحری کی تیاری دشوار کام ہوتا ہے جبکہ وقت کی قلت کے باعث سحری کیلئے باہر جانا بھی ممکن نہیں رہتا اس لیے اکثر لوگ تیار سحری آرڈر کرتے ہیں تاہم اس کی بروقت ترسیل میں بھی ایک مشکل مرحلہ تھی جسے ڈرون کے ذریعے حل کرلیا گیا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ دوبئی کے مقامی نوجوانوں نے اس پروجیکٹ کو مکمل کرلیا ہے جب کہ سحری کی تیاری کے لیے رضاکاروں کی بڑی ٹیم درکار ہے جس کے لیے انٹرویوز جاری ہیں۔ یہ اسلامی دنیا میں فراہم کی جانی والی اپنی نوعیت کی پہلی سروس ہوگی۔واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکا کی مشہور ریٹیل ویب سائٹ ایمزون نے صارفین تک سامان کی ترسیل کے لیے ڈرون استعمال کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ امریکی ریاست کیلی فورنیا کی ایک کمپنی نے روانڈا کے دور دراز علاقوں میں خون اور ادویہ کی ترسیل کے لیے ڈرون کا استعمال شروع کیا تھا جسے مزید بہتر بناکر دنیا کے سب سے تیز رفتار کمرشل ڈلیوری ڈرون میں تبدیل کردیا گیا جو 128 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرسکتا ہے۔

زپلائن ڈرون کے بازو جامد (فکسڈ) ہیں اور اسے اڑانا اور بحال رکھنا بہت آسان ہے۔ اسی بنا پر ایمیزون اور دیگر کئی کمپنیوں نے زپلائن میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا میں اسے غذا اور دوائیں پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل زپلائن قدرے سست تھا جسے اب بہتر بنایا گیا ہے۔زپلائن نے روانڈا میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے اور کئی اہم تجربات انجام دیئے ہیں۔

روانڈا میں زپلائن نے دسمبر2016ءسے اب تک مجموعی طور پر 4000 پروازیں کرکے 3 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہے۔ اس کے بعد اب تنزانیہ میں بھی اس ڈرون نے پروازیں شروع کردی ہیں۔زپلائن کے سی ای او کیلر رینائیڈو نے کہا ہے کہ افریقا میں قابل قدر تجربات کے بعد ہم نے پورے نظام کو نئے سرے سے تبدیل کیا ہے۔ ڈرون میں اشیا رکھنے اور تھامنے کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کے علاوہ کمپیوٹر وڑن کو بھی جدید کیا گیا ہے۔

ان تبدیلیوں کی وجہ سے آرڈر سے لے کر پرواز تک کے وقت کو 10 منٹ سے کم کرکے 1 منٹ تک کردیا گیا ہے۔قبل ازیں ایک مرکز سے روزانہ 50 پروازیں ہوتی تھیں جو اب بڑھ کر روزانہ 500 پروازوں تک جاپہنچی ہیں۔ ان کا جدید ترین ماڈل ایک وقت میں پونے دو کلوگرام سامان 160 کلومیٹر فاصلے تک پہنچا سکتا ہے۔ روانڈا میں ایک طبی مرکز سے دوسرے اسپتال تک خون پہنچانے میں 4 گھنٹے لگتے تھے لیکن اب صرف 15 منٹ لگتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں زپلائن کو امریکا میں ضروری اشیا، ڈاک اور ادویہ فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔