پنجاب حکومت کے بہتر اقدامات کی بدولت رواں سیزن میں کپاس کی پیداوار میں ساڑھی9فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،کاٹن جنرز ایسوسی ایشن،امسال کپاس کی ڈیمانڈ میں اضافہ کا امکان جو بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی کپاس کے امپورٹرز کیلئے فائدہ کا باعث بنے گی

جمعرات مئی 13:45

لاہور۔10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) حکومت پنجاب کے بہترین اقدامات کے باعث رواں سیزن میں کپاس کی پیداوار میں ساڑھی9فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا،کاٹن جنرز فورم کے مطابق رواں سیزن میں کپاس کی پیداوار 1 کروڑ14 لاکھ بیلز رہی جبکہ ملک میں اس وقت 87 جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں،ان میں سے 74جننگ فیکٹریاں صوبہ پنجاب میں ہیں، گزشتہ سیزن میںاسی عرصہ کے دوران کپاس کی پیداوار 1کروڑ6 لاکھ بیلز ریکارڈ ہوئی تھی،اس عرصہ میں ٹیکسٹائل ملز مالکان نے 1 کروڑ2 لاکھ کاٹن بیلز کے سودے کئے جبکہ برآمد کنندگان نی2 لاکھ بیلز خریدیں،کپاس کی بہتر پیداوار کی گزشتہ سیزن میں وجہ بنیادی طور پر کپا س کی اگیتی کاشت پر دفعہ 144-کا نفاذ رہا،امسال بھی حکومت پنجاب نے دفعہ144-کا یکم اپریل سے قبل کاشت پر نفاذ کیا ہے اور اس کے علاوہ حکومت کی جعلی پیسٹی سائیڈکیخلاف مہم جاری ہے جس کی وجہ سے جعلی زرعی ادویات کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور کاشتکاروں کو کیڑوں کے خلاف موثر ادویات کی دستیابی ہو رہی ہے، ٹریڈ کارپوریشن آف پاکستان نے کاٹن سیزن 2017-18 میں خریداری نہیں کی ہے،حکومت کے ان کسان دوست اقدامات کے نتیجے میں کاٹن جنرز ایسوسی ایشن پر امید ہے کہ آئندہ سیزن میں کپاس کی پیداوار میں مزید بہتری آئے گی اور جلد ہم کپاس کی پیداوار اور کوالٹی میں بہتری پیدا کرکے اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کر لیں گے، رواں سال کپاس کی ڈیمانڈ میں اضافہ کا امکان ہے اور بین الاقوامی سطح پرکپاس کی مانگ میں اضافہ کے باعث پاکستانی کپاس کے کاشتکاروں اور امپورٹرز کا بہت زیادہ فائدہ متوقع ہے