سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 20 فیصد اضافہ کیا جائے،

مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے، سی پیک سے یکساں استفادہ اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کیلئے اقدامات کئے جائیں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر حاجی غلام احمد بلور کا قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

جمعرات مئی 14:37

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 20 فیصد اضافہ کیا جائے،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 20 فیصد اضافہ کیا جائے‘ مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے اور سی پیک کے منصوبوں سے یکساں استفادہ اور فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں حاجی غلام احمد بلور نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کے ملزمان کو چھوڑے جانے پر احتجاج اور اس کی مذمت کرتا ہوں‘ عدلیہ کو اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے بجٹ اور حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اقتصادی ترقی کا اندازہ ڈالر کی قدر میں اضافہ سے ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

اسی طرح قرضوں کے حصول اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم سے کم 20 فیصد اضافہ کیا جائے۔ بناسپتی گھی کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ غریب لوگوں کو فائدہ پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا سے روزانہ 57 ہزار بیرل خام تیل نکالا جارہا ہے مگر ریفائنری پنجاب میں بنائی گئی ہے۔ صوبہ میں بیروزگاری کی شرح زیادہ ہے اور لاکھوں کی تعداد میں پختون مشرق وسطیٰ اور بلوچستان میں کوئلوں کی کانوں میں مزدوری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے اور سی پیک کے منصوبوں سے یکساں استفادہ اور فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ حاجی غلام احمد بلور نے اپنی تقریر میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔