افسر شاہی کی نااہلی؛

سندھ حکومت کو ٹیکس وصولی میں 7 ارب 65 کروڑ کا نقصان سندھ ریونیو بورڈ، صوبائی محکمہ ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن اوردیگرصوبائی محکمے ذمے دار ہیں، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ

جمعرات مئی 14:50

افسر شاہی کی نااہلی؛
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) ٹیکس نظام کی ابتری، افسرشاہی کی نااہلی اور بعض دیگر اسباب کے باعث سندھ میں ہر سال اخراجات کے مقابلے میں وصولیوں میں کمی بڑھتی جارہی ہے جب کہ ایک اندازے کے مطابق رواں مالی سال میں یہ خسارہ 9 فیصد ہونے کا امکان ہے۔وصولیوں میں مسلسل کمی کا ایک سبب حکومت سندھ کے ٹیکس نظام میں خرابیاں اور افسرشاہی کی نااہلی ہے جس کے باعث اخراجات کے مقابلے میں وصولیاں ہر سال کم ہوتی جارہی ہیں، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق دیگر صوبائی محکموں کے علاوہ سندھ میں ٹیکس وصول کرنے اور وصولیوں کو بڑھانے کے لیے ذمے دار سرکاری ادارے بھی ٹیکسز کی عدم وصولی کے باعث ہونے والے اربوں روپے کے نقصان کے ذمے دار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبائی وصولیاں بڑھانے کے لیے ذمے دار ادارے سندھ ریونیو بورڈ نے صرف ایک سال کے دوران صوبائی سیلز ٹیکس کی مد میں وصولیاں نہ کرکے سرکاری خزانے کو 5 ارب 32 کروڑ 49 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا جبکہ اسی عرصے کے دوران مذکورہ ادارے کی جانب سے خدمات پر سیلز ٹیکس کی عدم وصولیوں کے باعث بھی سرکاری خزانے کو 2 ارب 33 کروڑ کا نقصان ہوا۔

(جاری ہے)

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ادارے نے جولائی2015 سے جون 2016 کے دوران مختلف رجسٹرڈ لوگوں اور کمپنیوں سے صوبائی سیلز ٹیکس کی مد کم وصولیاں کیں، یہ وصولیاں کمشنر ون سے کمشنر فائیو کے دفاترکوکرنی تھیں۔اسی طرح خدمات پر سیلز ٹیکس کی مد میں ہونے والا نقصان بھی مذکورہ دفاتر کی جانب سے کم وصولیوں کے باعث ہوا، اسی طرح بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بھی سیلز ٹیکس کی مد میں وصولیاں نہ کرنے کے باعث 2 کروڑ 85لاکھ روپے کا نقصان ہوا جبکہ ادارے نے انکم ٹیکس کی کم وصولی کی وجہ سے بھی سرکاری خزانے کو 89 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، مختلف ٹیکسز کی عدم وصولی کے باعث ہونے والے نقصان کا صوبائی محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بھی ذمے دار ہے۔

سال 2014-15 اور سال 2015-16 کے دوران محکمہ ایکسائز نے پروفیشنل ٹیکس کی مد میں 2 کروڑ 29 لاکھ روپے وصول نہ کرکے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا، آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے ٹھیکیداروں سے مقررہ شرح کے حساب سے سیلز ٹیکس کی وصولی نہ کرکے بھی قومی خزانے کو 2 کروڑ 12 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔صوبے کے تمام محکموں و سرکاری اداروں کو رقوم کی تقسیم اور حساب کے لیے ذمے دار محکمہ خزانہ نے صرف خدمات پر سندھ سیلز ٹیکس کی مد میں عدم کٹوتیوں کے باعث محکمہ خزانہ نے قومی خزانے کو 38 کروڑ 33 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، رپورٹ کے مطابق اتنا بڑا نقصان اس لیے ہوا کہ محکمہ خزانہ کے ماتحت ضلعی اکائونٹس آفسز نے مالی سال 2014-15 اور سال 2015-16 کے دوران ٹھیکیداروں سے مقررہ شرح کے حساب سیلز ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی۔

اسی عرصے کے دوران محکمہ خزانہ نے مختلف ٹھیکیداروں کے بل انکم ٹیکس کی کٹوٹی کے بغیر کلیئر کردیے جس سے سرکاری خزانے کو 16 کروڑ 84لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ خزانہ نے اسی عرصے کے دوران جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں مقررہ شرح کے حساب سے کٹوتی نہ کرنے کی وجہ سے بھی سرکاری خزانے کو 2 کروڑ 47 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، محکمہ خزانہ کے ماتحت سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ نے بھی اسٹیمپ ڈیوٹی کی مد میں کم وصولیاں کی جس سے سرکاری خزانے کو 60 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ زراعت کے ماتحت ڈائریکٹر ایگریکلچر انجنیئرنگ حیدرآباد اور ڈی جی ایگریکلچر انجینئرنگ اینڈ واٹر مینجمنٹ حیدرآباد کے حکام نے مالی سال 2015-16 کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 17 لاکھ روپے کی وصولی نہ کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔مذکورہ حکام نے انکم ٹیکس 4.5 فیصد کی شرح سے کٹوتی کی جبکہ یہ شرح 7.5 فیصد اور 10 فیصد بنتی تھی، اسی طرح محکمہ زراعت کے مذکورہ دفاتر اور ٹنڈو جام میں واقع زرعی بیج کے تحققیقی مرکز کی جانب سے سال 2015-16 میں سیلز ٹیکس کی مقرر شرح کے حساب سے وصولیاں نہ کرکے قومی خزانے کو 48 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔

انکم ٹیکس کی وصولی کی مد میں بے نظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورسز ریسرچ ڈیولپمنٹ بورڈ نے بھی سال 2014-15 میں 25 لاکھ روپے کم وصول کیے، مذکورہ ادارے کومتعلقہ ٹھیکیدار سے 10 فیصد کی شرح سے انکم ٹیکس کی کٹوتی کرنی تھی لیکن 7 فیصد کے حساب سے کی گئی۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ ترقی و منصوبہ بندی نے انکم ٹیکس کٹوتی کی مد میں 2 کروڑ 50 لاکھ کی رقم وصول کی لیکن یہ رقم سرکاری اکانٹ میں جمع نہیں کرائی گئی، جب متعلقہ محکمے سے پوچھا گیا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا، مذکورہ عرصے کے دوران محکمہ تعلیم نے بھی ٹھیکیداروں سے مقررہ شرح کے حساب سے سیلز ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی جس سے قومی خزانے کو 3 کروڑ35 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، اسی طرح جی ایس ٹی کی مد میں بھی محکمہ تعلیم کی جانب سی2کروڑ 20 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا، محکمہ تعلیم کے کراچی،، نواب شاہ اور نوشہروفیروزدفاتر کی جانب سے مقررہ شرح کے حساب سے ٹھیکیداروں کے بلوں سے کٹوتی نہیں کی گئی۔

محکمہ تعلیم میں اسی عرصے کے دوران اسٹیمپ ڈیوٹی کی مد میں بھی 64 لاکھ روپے کی کٹوتی نہیں کی گئی، اس مد میں سب سے بڑا نقصان سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ جام شورو کے حکام نے پہنچایا جنھوں نے اسٹیمپ ڈیوٹی وصول کیے بنا 48 لاکھ روپے کے معاہدے کیے۔اسی عرصے کے دوران محکمہ توانائی کے ماتحت تھر کول واٹر ورکس ڈویزن نے بھی انکم ٹیکس کی مد میں سرکاری خزانے کو 4 کروڑ 80 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، محکمے نے ایل بی او ڈی پر کام کرنے والی نجی کمپنی پاک اوسس سے انکم ٹیکس کی مد میں مقررہ شرح سے کم کٹوتی کی تھی، وزیراعلی مراد شاہ کے ماتحت تھر کول واٹر ورکس ڈویژن نے مذکورہ عرصے کے دوران اسٹیمپ ڈیوٹی کی مد میں بھی سرکاری خزانے کو 21 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔

اسی طرح مذکورہ عرصے کے دوران محکمہ جنگلات نے بھی انکم ٹیکس کی مد میں کم وصولیاں کیں جس سے سرکاری خزانے کو تقریبا 3 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا، محکمہ صحت نے بھی انکم ٹیکس کی مد میں36 لاکھ روپے کم وصول کیے، محکمہ داخلہ نے اسٹیمپ ڈیوٹی کی مد میں 1 کروڑ 27 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، جبکہ مذکورہ محکمے نے انکم ٹیکس کی مد میں 35 لاکھ روپے کم وصول کیے اور خدمات پر سیلز ٹیکس کی مد میں 70 لاکھ روپے اور جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں 29 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔

محکمہ صنعت نے سیلز ٹیکس کی مد میں 2 کروڑ 90 لاکھ روپے اور انکم ٹیکس کی مد میں 53 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، محکمہ آب پاشی نے بھی خدمات پر سیلز ٹیکس کی کٹوتی نہ کرکے سرکاری خزانے کو 24 کروڑ 19 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، کچی آبادی اتھارٹی نے انکم ٹیکس کی مد میں کم کٹوتی کرکے 16 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔اسی طرح محکمہ لائیواسٹاک و فشریز نے اسی عرصے کے دوران مختلف ٹیکسز وصول نہ کرکے سرکاری خزانے کو 5 کروڑ 67 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، محکمہ معدنیات نے انکم ٹیکس کی کٹوتی نہ کرکے 4 کروڑ 55 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، محکمہ اقلیتی امور نے بھی مختلف ٹیکسز کی مد میں 1 کروڑ 73 لاکھ روپے وصول نہیں کیے جبکہ سندھ اسمبلی نے انکم ٹیکس کی کم کٹوتی کرکے سرکاری خزانے کو 14 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔

محکمہ ترقی و منصوبہ بندی نے بھی اسی عرصے کے دوران مختلف ٹیکسز کی مد میں 11 کروڑ 78 لاکھ روپے کم وصول کیے، محکمہ پاپولیشن ویلفیئر نے مختلف ٹیکسز کی مد میں 58 لاکھ روپے کم وصول کرکے نقصان پہنچایا، محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے انکم ٹیکس کی وصولی کی مد میں 12 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔