تنظیم آزادی فلسطین کا دنیاسے امریکی سفارت خانے کی تقریب کے بائیکاٹ کا مطالبہ

عالمی برادری کے علم میں مسلسل یہ بات لا چکے ہیں ٹرمپ انتظامیہ کا برتاؤ عالمی انارکی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے،بیان

جمعرات مئی 15:30

رام اللہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی مجلس عاملہ کے سکریٹری صائب عریقات نے باور کرایا ہے کہ امریکا کا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا نہ صرف سلامتی کونسل کی قرارداد 478 کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ منصفانہ امن کی امید کے خاتمے کی اسرائیلی حکمت عملی کے عین مطابق ہے جو 1967ء کی سرحد پر دو ریاستی مستقل حل نہیں چاہتا۔

عریقات کے مطابق بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کے افتتاح میں شرکت اس جانب دارانہ اور غیر قانونی اقدام کو تسلیم کرنا شمار ہو گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق پی ایل او کے رہنماء نے کہاکہ ہم عالمی برادری کے علم میں مسلسل یہ بات لا چکے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کا برتاؤ بین الاقوامی انارکی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور بین الاقوامی تنظیموں اور قوانین کے عدم احترام کو سراہتا ہے۔

(جاری ہے)

یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ قانون کی بالادستی کے بنیادی اصولوں کے تحفظ کے حوالے سے اپنی ذمے درایاں پورے کرے۔ ان میں کوئی ایسا اقدام نہ کرنا بھی شامل ہے جو مذکورہ غیر قانونی قدم کو تسلیم کرنے کے طور پر شمار کیا جا سکتا ہو۔عریقات نے مزید کہا کہ گوئٹے مالا اور پیراگوائے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ 14 اور 16 مئی کو اپنے سفارت خانے بیت المقدس منتقل کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں ٹرمپ انتظامیہ کی پیروی کریں گے۔

ہم سفارتی مشنوں اور سول سائٹیز کے تمام ارکان اور مذہبی حکام سمیت عالمی برادی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سفارت خانوں کے افتتاح کی تقریب کا بائیکاٹ کریں۔ اس بائیکاٹ کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ عالمی برادری بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر سختی سے کاربند ہے۔صائب عریقات نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور منصفانہ اور مستقل حل کے تقاضوں کو سپورٹ کریں۔ اس میں 1967ء کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے جس کا دارالحکومت بیت القمدس ہو۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کے محاسبے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔