چین نے زلزلہ کی پیشگی اطلاع دینے والا نظام قائم کر لیا

زلزلے کی پیشگی اطلاع دینے کی صلاحیت رکھنے والا تیسرا ملک بن گیا

جمعرات مئی 16:01

شنگھائی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) چین نے ارضیاتی ارتعاش پیدا ہونے سے قبل چند سیکنڈ قبل خبر دار کرنے کیلئے متعدد نشریاتی نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے جنوب مغربی چین کے صوبہ سچوان کے دارالحکومت چنگ ڈو میں زلزلے کی پیشگی اطلاع دینے والا نظام قائمکیا ہے ۔ گذشتہ روز ایک زلزلہ مشق میں ریڈیو ،ٹیلی ویژن اور سیل فون کے ذریعے چنگ ڈو ہائی ٹیک ڈسٹرکٹ میں 60رہائشی آبادیوں کو پیشگی خبر دار کرنے کا پیغام بھیجا گیا ۔

صوبہ سچوان کی اہم تجربہ گاہ اور چنگ ڈو ہائی ٹیک سائنات میں کمی کے ادارے کے سربراہ وانگ تن نے کہا کہ زلزلے کی پیشگی اطلاع دینا زلزلے کی پیشنگوئی نہیں ہے اس میں صرف اس تھیوری کو استعما ل کیا گیا ہے کہ ریڈائی لہریں ارضیاتی لہروں سے زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہیں تاکہ عوام کو زلزلے سے چند سیکنڈ قبل خبردار کر دیا جائے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ آف تھک کی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ارضیاتی نیٹ ورک سے منسلک سسٹم زلزلے کی لہروں کو مانیٹر کرنے کے وقت انتباہ جاری کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کے پاس پناہ لینے کیلئے فالتو لمحے میسر ہوں ۔

زلزلہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ زلزلہ آنے سے تین سیکنڈ پہلے خبردار کرنے سے 14فیصد اموات 10سیکنڈ قبل مطلع کرنے سے 39فیصد اموات اور 20سکینڈ قبل مطلع کرنے سے 63فیصد اموات کو بچایا جا سکتا ہے ۔کیمیکل انڈسٹری ،جوہری صنعت، تیز رفتار ریلویز اور شہری میٹرو نظاموں جیسے اہم شعبوں میں زلزلے کی پیشگی اطلاع دینے سے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے اور ثانوی ناگہانی آفت سے بچا جا سکتا ہے ۔ اس سٹم کی بدولت چین جاپان اور میکسکو کے بعد زلزلے کی پیشگی اطلاع دینے کی صلاحیت رکھنے والا تیسرا ملک بن گیا ہے ۔