پنگریو اور زریں سندھ کے دیگر شہروں میں آم کی مختلف اقسام مارکیٹ میں آگئیں،فروٹ منڈیوں میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ

جمعرات مئی 16:12

پنگریو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پنگریو اور زریں سندھ کے دیگر شہروں میں پھلوں کے بادشاہ آم کی مختلف اقسام مارکیٹ میں آگئی ہیں جس کی وجہ سے فروٹ منڈیوں میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور ہزاروں افراد آموں کے باغات سے آم توڑنے، پیکنگ کرنے، لوڈنگ ان لوڈنگ کر نے اور خریدوفروخت کے کام میں مصروف ہو گئے ہیں پنگریو، جھڈو، نوکوٹ، تلہار، ٹنڈو غلام علی، بدین، عمر کوٹ ، ٹنڈو الہ یار، حیدر آباد اور اندرون سندھ کی دیگر فروٹ منڈیوں میں دیسی اور فارمی آموں کی مختلف خوش ذائقہ اقسام آنے سے فروٹ منڈیوں کے تاجروں کے چہرے بھی خوشی سے کھل اٹھے ہیں ملک بھر میں زیریں سندھ کے آم سب سے پہلے مارکیٹ میں آنے سے آموں کی ملک بھر میںترسیل شروع ہوجاتی ہے اور باغبان و ٹھیکیدار حضرات ملک کی بڑی فروٹ منڈیوں میں آم فروخت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی شہروں میں آموں کی طلب کے مقابلے میں رسد بہت کم ہونے کے باعث قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور اس سال بھی آموں کی معروف اور رسیلی سمجھی جانے والی اقسام عام افراد کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے یہ مقامی افراد دیسی آم خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں آم مارکیٹ میں آنے کے باعث بچوں بڑوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور خاص طور پر بچے اپنے پسندیدہ پھل کے مارکیٹ میں آنے پر بہت خوش دکھائی دے رہے ہیں تاہم باغبانوں اور ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ اس سال پانی کی شدید قلت رہنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گزشتہ سال کے مقابلے میں آموں کی پیداوار کم حاصل ہونے کا خدشہ ہے باغبانوں کے مطابق شدید خشک سالی کے باعث آموں کے پودوں میں اس سال بُور ہی بہت کم لگا تھا جبکہ کیریاں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم بنی تھیں ان عوامل کے باعث امسال آموں کی پیداوار میں کمی ہونے کا امکان ہے جس کی وجہ سے باغبانوں اور ٹھیکیداروں میں بھی مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے اس حوالے سے باغبانوں نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس سال پیداوار میں کمی ہونے کے باعث انہیں آموں کے سیزن میں نفع کے بجائے نقصان ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں باغبانوں نے بتایا کہ آموں کے باغات میں اس سال مختلف امراض نے بھی حملہ کیا ہے اور رہی سہی کسر ان امراض نے نکال دی ہے باغبانوں کے مطابق پانی کی شدید قلت کے باعث جہاں دوسری فصلیں اور باغات بہت متاثر ہوئے ہیں وہیں پر آم بھی متاثر ہونے سے نہیں رہ سکے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں آموں کی امسال پیداوار میں کافی کمی ہونے کے اندیشے نے ان کی نیندیں اُڑا دی ہیں جبکہ دوسری طرف پیداوار میں ہونے والی اس کمی کا اثر براہ راست خریداروں پر پڑنے کے باعث سندھڑی، چونسا، لنگڑا،دسہڑی، فجلی اور دیگر خوش ذائقہ اقسام غریب اور متوسط طبقے کے افراد کی قوت خرید سے باہر ہونے کا امکان ہے