متحدہ عرب امارات میں غیر ملکی ملازمین کے لیے جگہ تنگ پڑنے لگی

متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اماراتی متبادل ہونے کی صورت میں غیر ملکیوں کے ورک پرمٹ منسوخ کر دئیے جائیں گے

Sadia Abbas سعدیہ عباس جمعرات مئی 15:12

متحدہ عرب امارات میں غیر ملکی ملازمین کے لیے جگہ تنگ پڑنے لگی
ابوظہبی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) متحدہ عرب امارات کی انسانی وسائل اور امارت کی وزارت نے کہا ہے کہ اگرامارتی شہری بطور ملازمین موجود ہوں تو غیر ملکی ملازمین کا ورک پرمٹ منسوخ کر دیا جائے گا ۔ مزید تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی انسانی وسائل اور امارت کی وزارت کے ترجمان نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں یہ اعلامیہ اس لیے جاری کیا ہے کہ ریاست میں امارتی ملازمین کی تعداد غیر ملکی ملازمین کی تعداد سے نہایت ہی کم ہے ۔

متحدہ عرب امارات کی کل آبادی 9.5 ملین ہے جسکا 88 فیصد امارتی شہری ہیں جنکو ملازمت فراہم کرنا درکار ہے ۔ ایک مختصر ٹویٹر ویڈیو میں وزارت نے تین وجوہات بتائی ہیں جن کی بنیاد ہر غیر ملکیوں کے ورک پرمٹ منسوخ کر دئیے جائیں گے ۔

(جاری ہے)

ان شرائط کے مطابق اگر کوئی امارتی شہری تین ماہ سے زیادہ دیر تک بے روزگار ہے تو کسی غیر ملکی شہری کی جگہ اسے ملازمت دی جائے گی اور غیر ملکی ملازم کا ورک پرمٹ منسوخ کر دیا جائے گا ۔

اس کے علاوہ اگر کسی غیر ملکی نے ورک پرمٹ کی شرط " امارتی شہری کی جگہ غیر ملکی ملازم کی بھرتی " کی خلاف ورزی کی ہے تو بھی غیر ملکی شہری کا ویزہ منسوخ کر دیا جائے گا ۔
متحدہ عرب امارات کی انسانی وسائل اور امارت کی وزارت کا کہنا ہے کہ انہوں نے فروری میں 2000 نجی کمپینوں کو اعلامیہ جاری کیا تھا کہ غیر ملکی شہریوں کو ملازمت پر بھرتی کرنے کی بجائے امارتی شہریوں کو ملازمت پر بھرتی کرنے کو ترجیح دیں ۔

مقامی ذارئع ابلاغ سے حاصل پونےوالی رپورٹس کے مطابق 400 سرکاری ادروں نے ملازمتوں کے لیے اشتہار دیتے ہوئے یہ بات واضح طور پر ملازمت کی شرائط میں لکھی تھی کہ پہلے امارتی شہریوں کو بھرتیوں میں ترجیح دی جائے گا اسکے بعد غیر ملکی ملازمین کو ترجیح دی جائے گی ۔

متعلقہ عنوان :