افغانستان میں امن کے قیام ،ْعلماء کے کر دار پر علماء کانفرنس کل شروع ہوگی ،ْ

پاکستانی علماء کا پندرہ رکنی وفد پہنچ گیا مشترکہ اعلامیے میں صرف مسلمانوں کو درپیش مسائل سے متعلق موضوعات شامل ہونگے ،ْپاکستانی علماء کا اتفاق افغانستان میں جاری جنگ کے اصل اسباب کی نشاندہی کی جائیگی جس کی وجہ سے طالبان مسلح جدو جہد کررہے ہیں ،ْپاکستانی شرکاء

جمعرات مئی 16:21

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) افغانستان میں امن کے قیام میں علماء کے کر دار اور مسلم امہ کو درپیش چیلنجز سے متعلق انڈونیشیا میں پاکستان ،ْ افغانستان اور انڈونیشیا کے علماء کی جمعہ کو ہونے والی ایک روزہ کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستانی علماء کا پندرہ رکنی وفد جکارتہ پہنچ گیا ہے ۔جکارتہ سے پاکستانی وفد کے ایک رکن نے فون پر ’’این این آئی ‘‘کوبتایا کہ اجلاس سے پہلے پاکستانی علماء کے وفد نے اجلاس کے لئے حکمت عملی طے کر نے پر مشورے کئے اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ اعلامیے میں صرف مسلمانوں کو درپیش مسائل سے متعلق موضوعات شامل ہونگے ،ْکسی اور ملک کے حالات کے متعلق موضوعات کی مخالفت کی جائیگی ۔

یاد رہے کہ انڈونیشین حکومت نے افغانستان سے متعلق اجلاس میں فتویٰ جاری کر نے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم طالبان نے اس کی مخالفت کی تھی ۔

(جاری ہے)

طالبان کی مخالفت کی وجہ سے مارچ ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا اور بعد میں اجلاس کا موضوع بھی صرف مسلم امہ میں امن اور مفاہمت تک محدود کر دیا گیا تھا ۔نام نہ ظاہر کر نے کی شرط پر پاکستانی وفد کے ایک رکن نے بتایا کہ پاکستانی شرکاء کو جمعرات کی سہ پہر تک ایجنڈا نہیں دیا گیا تھااور پاکستانی شرکاء نے منتظمین سے اس کا مطالبہ کیا تھا ۔

انہوںنے کہا کہ پاکستانی علماء نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں ایسی کسی چیز کو شامل کر نے کی مخالفت کر ینگے جس سے کسی تیسرے ملک کے معاملات میں مداخلت ہوسکے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستانی شرکاء نے اس پر بھی اتفاق کیا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ کے اصل اسباب کی نشاندہی کی جائیگی جس کی وجہ سے طالبان مسلح جدو جہد کررہے ہیں انہوںنے افسوس کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں غیر ملکی افواج کی موجودگی اور ان کے واپس جانے کا ذکر نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے جنگ جاری ہے اور اب جنگ میں عام افغانوں کی زندگیاںلی جاتی ہیں ۔

کانفرنس کیلئے پاکستان سے پہنچنے والے علماء میں مدرسہ حقانیہ کے نائب مولانا انوار الحق ،ْ جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ شیخ اویس احمد نورانی ،ْ سینیٹر ساجد میر ،ْ اسلامی نظریہ کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز ،ْ جامع بنوریہ کے مہتمم مفتی نعیم ،ْ مفی غلام الرحمن جامعہ عثمانیہ پشاور ،ْ شیخ ادریس چار سدہ ،ْ پروفیسر اسلامی یونیورسٹی علامہ یاسین ظفر ،ْ تحریک نفاذ جعفریہ کے رہنما علامہ نیاز حسین نقوی ،ْ ترنول کی جامع مسجد کے امام پیر مولانا عزیز الرحمن ہزاروی ،ْ مدرسہ تفہیم القرآن مردان کے مہتمم ڈاکٹر عطاء الرحمن ،ْ انصار الامہ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خلیل ،ْڈاکٹر ضیاء الحق ،ْ پاکستان علماء کونسل کے مرکزی رہنما مولانا زاہد قاسمی شامل ہیں ۔