بھٹہ مزدور کے بچوں کو جبری مشقت سے آزاد کروا کر عدالت پیش کرنے کا حکم

سپریم کورٹ میں بھٹہ مزدوروں کے حقوق سے متعلق پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ کی جانب سے رپورٹس جمع

جمعرات مئی 16:21

بھٹہ مزدور کے بچوں کو جبری مشقت سے آزاد کروا کر عدالت پیش کرنے کا حکم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سپریم کورٹ میں بھٹہ مزدوروں کے حقوق سے متعلق پنجاب،، خیبرپختونخوا اور سندھ کی جانب سے رپورٹس جمع کرا دی گئیں جبکہ چیف جسٹس نے ڈی پی اوسیالکوٹ کو بھٹہ مزدور کے بچوں اوررشتہ داروں کو جبری مشقت سے آزاد کرا کے پیر کو عدالت پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ گزشتہ روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بھٹہ مزدوروں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اینٹوں کے بھٹوں پر مزدوروں اور انکے بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے، ازخود نوٹس کا مقصد یہ ہے کہ مزدوروں اور انکے بچوں کو جبری مشقت سے آزاد کرایا جائے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پنجاب میں 2739 مزدوروں اور بچوں کو آزاد کرایا ہے، اس مقصد کیلئے 15 ہزار چھاپے مارے گئے اور جبری مشقت لینے پر بھٹہ مالکان کیخلاف 1300 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، دوران سماعت ایک مزدور عنایت نے استدعا کی کہ بھٹہ مالکان بولا بٹ اورعرفان گجر ان کے بچوں اور رشتہ داروں کو بیگار کیمپوں میں رکھا ہے، چیف جسٹس نے ڈی پی او سیالکوٹ کو حکم دیا کہ مزدور عنایت کے بچوں اوررشتہ داروں کو جبری مشقت سے آزاد کرا کے پیر کو پیش کیا جائے۔ مقدمے کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔