نیب نے میری کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کو اپنا مشن بنالیا ہے‘8 مئی کو جاری پریس ریلیز میں الزام کی نوعیت بہت سنگین ہے۔نوازشریف

چیئرمین نیب 24گھنٹوں میں جواب دیں یا فوری استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں‘ سزا سنائی بھی گئی تو میں معافی مانگنے یا رحم کی اپیل کے لیے نہیں جاﺅں گا۔ سابق وزیراعظم کا پریس کانفرنس سے خطاب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 15:47

نیب نے میری کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کو اپنا مشن بنالیا ہے‘8 مئی کو ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 مئی۔2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ اگر مجھے سزا سنائی بھی گئی تو میں معافی مانگنے یا رحم کی اپیل کے لیے نہیں جاﺅں گا۔ وزیر اعظم نے جو پارلیمان میں تقریر کی میں اس سے متفق ہوں، اگر کبھی میرے خلاف سزا بھی سنائی جاتی تو میں معافی مانگنے یا رحم کی اپیل کے لیے نہیں جاو¿ں گا۔

چیئرمین نیب نے میری کردار کشی سمیت قومی مفاد کو بھی نقصان پہنچایا۔ چیئرمین نیب 24 گھنٹے میں معافی مانگیں یا مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں۔ نیب کے جانبدار رویہ کی طرف اشارہ کرتا رہا ہوں جب کہ نیب نے میری کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کو اپنا مشن بنالیا ہے۔۔چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی طرف سے جاری پریس ریلیز پر حقائق قوم کے سامنے رکھوں گا، کئی بار نیب کی جانبداری اور معتصب رویہ کی طرف اشارہ کرتا رہا ہوں، نیب نے میری کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کو اپنا مشن بنالیا ہے اور 8 مئی کو جاری پریس ریلیز میں الزام کی نوعیت بہت سنگین ہے۔

(جاری ہے)

پنجاب ہاﺅس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے چیئرمین نیب سے استعفیٰ اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا کہ چیئرمین نیب اگلے 24گھنٹوں میں جواب دیں یا فوری استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔ سابق وزیراعظم نے کہاکہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی طرف سے جاری پریس ریلیز پر حقائق قوم کے سامنے رکھوں گا، کئی بار نیب کی جانبداری اور معتصب رویہ کی طرف اشارہ کرتا رہا ہوں، نیب نے میری کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کو اپنا مشن بنالیا ہے اور 8 مئی کو جاری پریس ریلیز میں الزام کی نوعیت بہت سنگین ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ الزام کی نوعیت شرمناک ہے اس کو نظرانداز کرکے پاکستان کی جمہوری نظام کو خطرے میں ڈالنا ہے، چیئرمین نیب کے الزامات گھٹیا اور ناقابل برداشت ہیں، کسی تفتیش کے بغیر ایک اخباری کالم کی خبر پر تحقیقات شروع ہونا شرمناک ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا نیب کونہیں معلوم کہ ورلڈ بینک نے دو ٹوک وضاحت کر دی تھی، نیب کا متعصب چہرہ بے نقاب ہوچکاہے، نیب کے چیئرمین اپنی ساکھ کھوچکے ہیں، کیا چیئرمین نیب نے کالم نگار کو بلاکر پوچھا،،چیئرمین نیب اگلے 24 گھنٹوں جواب دیں یا فوری استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔

نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی سے ریفرنس تک پھیلی سیاہ کہانی عوام کے سامنے ہے،مجھے وزارت عظمی سے علیحدہ کرنا طے پاچکا تھا، کوئی بہانہ نہ ملا تو بیٹے سے تنخواہ کو جواز بنا ڈالا، بوگس مقدمات میں اب تک 70 پیشیاں بھگت چکا ہوں، طوطے مینا کی کہانی سے کچھ برآمد نہیں ہوا۔۔نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر سے نہ صرف متفق ہوں بلکہ پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھانے پر ممنون بھی ہوں، جو کچھ ہورہا ہے وہ احتساب نہیں میری پارٹی کے خلاف انتقام کا سلسلہ ہے، ہمارے ممبرز کو کہا جارہا کے فوری (ن) لیگ کو چھوڑو اور تحریک انصاف جوائن کرو، ہمارے ایم پی ایز اگر پی ٹی آئی جوائن نہیں کرتے تو مقدمے تیار ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ کل جو پی ٹی آئی میں شامل ہوئے انہیں بھی زبردستی شامل کرایا گیا،،پاکستان دنیا کے اندر تماشا بنتا جارہا ہے، مجھےاگر سزا ہوئی تو کسی سے معافی مانگنے کی اپیل نہیں کروں، سازشی سوچ پر بھی غداری کی سزا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اصل خلائی مخلوق نظر نہیں آتی اب ان کا مقابلہ زمین کی مخلوق سے ہونے والا ہے تاہم اب زمینی مخلوق خلائی مخلوق کو شکست دے گی جب کہ دھرنے کے پیچھے بھی کچھ خلائی مخلوق کار فرما تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ثابت ہوگیا کس طرح ایک ادارے کے سربراہ نے میڈیا ٹرائل کو مشن بنالیا ہے‘ ورلڈ بینک کی رپورٹ کو مسخ کر کے میڈیا کے ذریعے پیش کیا گیا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانبداری اور عناد کا نشانہ بنتا رہا ہوں۔ چیئرمین نیب کے جاری مراسلے سے میری بات کی توثیق ہوگئی۔ اس بارے میں یہی کہہ سکتا ہوں عذر گناہ بد تر از گناہ۔۔نواز شریف نے کہا کہ الزام لگایا گیا کہ اس وقت کے وزیر اعظم نے رقم بھارت بھجوائی۔

3 بار وزیر اعظم رہنے والے شخص پر بھارت کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا گیا۔ مجھ پر 5 ارب ڈالر کی بھاری رقم منی لانڈرنگ سے باہر بھیجنے کا الزام لگایا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان کو نقصان پہنچا کر بھارت کو فائدہ پہنچایا گیا۔انہوں نے کہا کہ احتساب کا ادارہ میرے خلاف من گھڑت الزام کا مورچہ بن چکا ہے۔ ایک کالم کو بنیاد بنا کر میرے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کی گئی۔

پاناما لیکس کے بعد میں نے عدلیہ سے تحقیقات کی درخوست دی تھی۔ میری درخواست کو غلط قرار دے کر واپس کر دیا گیا تھا، میرے مخالفین نے درخواست جمع کروائی تو وہ معتبر ٹہری۔انہوں نے کہاکہ پاناما پیپرز کو دنیا میں کسی توجہ کے لائق نہیں سمجھا گیاشروع سے ہی پاناما لیکس میں میرا نام نہیں تھا، پتہ نہیں کیسے پاناما لیکس سے متعلق فضول پپیرز معتبر ہو گئے۔

میرے خلاف کچھ نہ ملا تو اقامہ کو بنیاد بنا کر مجھے نکال دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نیب کی پریس ریلیز میرے خلاف ڈرامے کی دوسری قسط ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ چیئرمین نیب نے رات کے اندھیرے میں پریس ریلیز کیوں جاری کی؟ چیئرمین نیب 24 گھنٹے میں معافی مانگیں یا مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں۔ انتخابات سے پہلے اس قسم کی حرکتیں قبل از انتخابات دھاندلی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی قسم کی ابتدائی تفتیش کے بغیر ایک گمنام اخبار کے کالم کو بنیاد بنا کر چیئرمین کے نام پر پریس ریلیز جاری ہونا کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کی انتہائی مکروہ مثال ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں وزیر اعظم کا ممنون ہوں کہ انہوں نے یہ معاملہ ایوان میں اٹھایا اور مجھے امید ہے کہ سیاسی جماعتیں اس معاملے کو دیکھیں گی۔انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کے بڑے حصے کا شکر گزار ہوں، جس نے نیب پریس ریلیز کا پوسٹ مارٹم کرکے اس کا سچ سامنے رکھ دیا۔