تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے انتظامات مکمل ،مریضوں کے لئے لوکل پرچیز میڈیسن کے سسٹم کو فول پروف بنانے کی ہدایت

جمعرات مئی 16:25

لاہور۔10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) تمام ٹیچنگ ہسپتالوں اور سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے اداروں میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مریضوں اور ان کے لواحقین کیلئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے انتظامات مکمل کردیئے گئے ہیں اور ضرورت کے مطابق ہر ہسپتال میں آر او پلانٹس ، آرسینک واٹر فلٹریشن پلانٹس ، واٹر کولرز اور ڈسپنسرز نصب کردیئے گئے ہیں، اس سلسلہ میں تمام ہسپتالوں کے سربراہان نے تصدیق نامہ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں جمع کرادیا ہے،یہ بات جمعرات کو صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت اجلاس میں بتائی گئی،اجلاس میں سیکرٹری ہیلتھ نجم احمد شاہ، سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ عثمان معظم، محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ افسران ، واسا ، پبلک ہیلتھ ، پی آ ئی ٹی بی کے نمائندوں اور سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اداروں کے سربراہان نے شرکت کی، اجلاس میں تمام ہسپتالوں کے سربراہان نے اپنے اپنے ہسپتال میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، پیتھالوجی ، ریڈیالوجی کی سہولیات ، ہسپتالوں کے ویسٹ کو تلف کرنے کے انتظامات اور شعبہ ایمرجنسی میں مریضوں کیلئے ادویات کی فراہمی بارے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ پینے کیلئے صاف پانی کی فراہمی کے تسلی بخش انتظامات کردیئے گئے ہیں اور اس حوالے سے ہسپتالوں میں لوگوں کی آگاہی کیلئے بورڈز بھی آویزاں کردیئے گئے ہیں،تمام ہسپتالوں کے شعبہ ایمرجنسی میں سو فیصد ادویات فراہم کی جارہی ہیں،اس موقع پر سیکرٹری نجم احمد شاہ نے ہدایت کی کہ مریضوں کیلئے ادویات کے لوکل پرچیز سسٹم کو فول پروف بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کنسلٹنٹ جو ادویات مریض کو تجویز کرے وہی دوائی اسی برانڈ کی وینڈرسپلائی کرے اور متعلقہ برانڈ کا متبادل ہرگز قبول نہ کیا جائے،نجم احمد شاہ نے ہدایت کی کہ ہسپتال کے سربراہ لوکل پرچیز کی ادویات کا برانڈ معلوم کرنے کیلئے سرپرائز چیکنگ کریں تاکہ جس دوائی کی قیمت دی جارہی ہے وہی ہسپتال کو سپلائی ہو،خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام ہسپتالوں میں معزز عدالت کے حکم کے مطابق تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں اور اس حوالے سے ہسپتالوں کے سربراہان کی جانب سے فراہم کئے گئے سرٹیفکیٹس سپریم کورٹ میں جمع کرادیئے جائیں گے۔

متعلقہ عنوان :