فوجی فرٹیلائزر کمپنی کا دھان کی منافع بخش کاشت کے موضوع پر سیمینار کا اِنعقاد خوش آئند ہے‘سید ہاشم رضا

دھان پاکستان کی اہم نقد آور فصل ہے، گندم کے بعد خوردنی اجناس میں دھان کی فصل سب سے زیادہ رقبہ پر کاشت کی جارہی ہے

جمعرات مئی 16:27

شیخوپورہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) دھان پاکستان کی اہم نقد آور فصل ہے، گندم کے بعد خوردنی اجناس میں دھان کی فصل سب سے زیادہ رقبہ پر کاشت کی جارہی ہے،،پاکستان میںدھان کی فی ایکڑ اوسط پیداوار 34 من ہے جودیگر ممالک کی نسبت بہت کم ہے، اِس میں اِضافہ کر کے ہمارے کاشتکار اپنی آمدن میں اِضافہ اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اِن خیالات کا اظہارسید ہاشم رضا، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شیخوپورہ نے فوجی فرٹلائیزر کمپنی کے لاہور ریجن کے زیراہتمام المزمل پیلس، شیخوپورہ میںدھان کی منافع بخش کاشت کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت عارف صدیق، مینجر FFC، محمد نعیم، ڈاکٹر طاہر حسین اعوان ، ملک رضوان فاروق کے علاوہ کسانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر اُنھوںنے ایف ایف سی کا سیمینار کے اِنعقاد پر شکریہ ادا کیا اور کاشتکاروں پر زرعی ماہرین کی سفارشات پر عمل کرنے کو کہا۔اُنھوںنے کاشتکاروں پر زور دیتے ہوئے کہا زرعی ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی اپنا کر دھان کی پیداوار میں اِضافہ کریں ۔ ریجنل مینجرلاہور جناب نعیم اختر نے کہا کہ ایف ایف سی نہ صرف سالانہ7 3 لاکھ ٹن سے ذائد معیاری کھادیں بنا کر اپنے 3600 سے ڈیلرز کے ذریعے زمینداروں تک پہنچا رہی ہے۔

کاشتکار کمپنی کی کھادیں صرف مقرر کردہ ڈیلرز سے خریدیں۔ جناب آفتاب نسیم مینیجرفارم ایڈوائزری سنٹر شیخوپورہ نے کہا کہ ایف ایف سی مُلکی سطح پر تیار کردہ سونا ڈی اے پی اور سونا یوریا کے علاوہ درآمد کردہ ایس او پی، ایم او پی، سونا زنک اور سونا بوران کاشتکاروں کو فراہم کر رہی ہے۔اِسکے علاوہ زمینداروں کی رہنمائی/ تربیت کا ایک جامع پروگرام بھی چلارہی ہے ۔

کمپنی کے زرعی شعبے کے تحت پانچ فارم ایڈوائزری سینٹر زاور تیرہ ریجنل دفاتر میں تعینا ت زرعی ماہر ین مختلف سرگرمیوں کے ذریعے کاشتکاروں کی عملی راہنمائی کر رہے ہیں ۔ آج کا یہ سیمینار اِسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ڈاکٹرطاہر اعوان نے دھان کی زیادہ پیداوار لینے کے لیے مختلف کاشتی امور پر تفصیلی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ سفارش کردہ اِقسام سُپر باسمتی، باسمتی 515، باسمتی 2000، باسمتی پاک یعنی کرنل باسمتی ، شاہین باسمتی، باسمتی385 کے ساتھنئی اِقسام کسان باسمتی، چناب باسمتی ،،پنجاب باسمتی کاصحت مند بیج استعمال کریں ۔

پنیری کی کاشت کے لئے ہمیشہ تندرست ، صاف ستھرا بیماریوں سے پاک ، تصدیق شدہ اور 80فیصد سے زائد اگائو والا بیج استعمال کریں۔ پنیری کی کاشت اپنے علاقائی شیڈول کے مطابق مرحلہ وار اس طرح کریں کہ منتقلی کے وقت پنیری کی عمر 25 سے 40دن کے درمیان ہو۔ پودے سے پودے اور قطار سے قطار کا فاصلہ 9انچ رکھیںاور ایک سوراخ میں دو دو پودے لگائیںاس طرح فی ایکڑ سوراخوں کی تعداد تقریبااسّی ہزار اور پودوں کی تعداد ایک لاکھ ساٹھ ہزار فی ایکڑ بنتی ہے۔

ایگزیکٹو مارکیٹنگ (ایگری سروسز) ایف ایف سی ملک رضوان فاروق نے کھادوں کے متوازن و متناسب استعمال پر روشنی ڈالی ۔ ہماری زمینوں میں نامیاتی مادے کی کمی کے باعث فصلوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے ۔ متواتر فصلیں کاشت کرنے کی وجہ سے نائٹروجن ، فاسفورس اور پوٹاش کے ساتھ ساتھ اجزائے صغیرہ میں زنک اور بوران کی کمی بھی آچکی ہے ۔ فوجی فرٹیلائزر کمپنی کی قائم کردہ مٹی اور پانی کے تجزیے کی جدید کمپیوٹرائزڈ لیبارٹریوں میں اب تک پانچ لاکھ سے زائد نمونوں کا تجزیہ کیا جا چکا ہے۔

نمونوں کے نتائج کے مطابق ہماری قریباً 100 فیصد زمینوں میں نامیاتی مادہ یعنی نائٹروجن،95 فیصدسے زائد زمینوں میں فاسفورس اور50 فیصد سے زائد زمینوںمیں پوٹاش کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے۔اجزائے صغیرہ کے تجزیہ کئے گئے نمونہ جات کے مطابق 85فیصد زمینوں میں زنک جبکہ 60فیصد زمینوں میں بوران کی کمی ہے۔لہٰذا اچھی اور بھرپور پیداوار کے لئے نائٹروجن، فاسفورس ، پوٹاش اور اجزائے صغیرہ کا متوازن اور صحیح مقدار میں استعمال بہت ضروری ہوگیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ دھان کی ا چھی پیداوار کے لئیدھان کی فائن اقسام کے لیے ، ڈیڑھ بوری سونا ڈی اے پی، پونی بوری ایف ایف سی MOP یا ایک بور ی ایف ایف سیSOP اور دو بوری سونا یوریا فی ایکڑ استعمال کریں۔تمام سونا ڈی اے پی ، FFC MOP یا SOP FFC اورآدھی بوری سونا یوریا پنیری کی منتقلی سے پہلے ڈالیں۔سونا یوریا کی بقیہ مقدار دو برابر حصوں میں پنیری کی منتقلی کے 25دن بعد اور 50دن بعد ڈالیں۔

موٹی اور ہائیبرڈ اقسام کے لیے پونے دو بوری سونا ڈی اے پی ، ایک بوریFFC MOP یا سوا بوری FFC SOP اورسوادو بوری سونا یوریافی ایکڑ استعمال کریں۔دھان کی موٹی اقسام کے لئے تمام سونا ڈی اے پی ، FFC MOP یا FFC SOP اور پونی بوری سونا یوریا پنیری کی منتقلی سے پہلے ڈالیں جبکہ بقیہ سونا یوریا پنیری کی منتقلی کے 30تا35 دن بعد ڈالیں۔ کاشتکار بھائی کیڑوں کی پیسٹ سکائوٹنگ کے بعد نقصان کی معاشی حد کو دیکھتے ہوئے ایف ایف سی کے زرعی ماہرین یا محکمہ زراعت کے عملے کے مشورے سے کیڑے مار زہریں استعمال کریں۔

عارف صدیق، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت شیخوپورہ نے کہا کہفصل کو تنے کی سنڈی کے حملے سے بچانے کے لیے کوئی ایک تجویزکردہ دانے دار زہر کا چھٹہ پنیری کی منتقلی کے پندرہ سے بیس دن بعد اور دوسری زہرپاشی پینتالیس سے پچاس دن بعد کھڑے پانی میں کریں۔ خیال رہے کہ چھٹہ کرنے کے چار سے پانچ دن بعد تک کھیت میں پانی کھڑا رہے۔ جن کھیتوں میں پانی کھڑا نہیں رہتا وہاں موزوں سرائیت پذیر زہر کا استعمال کریں۔

دھان کی فصل پر بکائنی، پتوں کا جراثیمی جھلسائو، دھان کا بھبکا، تنے کی سڑن اور بھورے دھبوں والی بیماریا ں زیادہ حملہ آور ہوتیں ہیں۔ یہ بیماریاں حملہ کی صورت میں پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔بکا ئنی اور بھورے دھبوں کے مرض سے بچائو کے لیے بیج کو ہمیشہ پھپھوندی کش زہر لگاکر کاشت کریں۔ دھان کا بھبکا یا بلاسٹ ظاہر ہونے پر کوئی ایک پھپھوندی کش زہر سپرے کریں اور پندرہ دن کے وقفہ سے یہ عمل دہرائیں۔

اس کے علاوہ گوبھ کی حالت سے لے کرسٹہ نکلنے کے دو ہفتے بعد تک کھیت کو خشک نہ ہونے دیں۔ جب سٹے کے اوپر والے دانے رنگ بدل چکے ہو ں اور نیچے والے چند دانے بیشک ہرے بھی ہوں تو فصل کٹائی کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔کٹائی شبنم خشک ہونے کے بعد کریں۔فصل زمین کے قریب سے کاٹیں اور کٹائی کے بعد زیادہ دیر کھیت میں نہ رہنے دیں۔ ان سفارشات پر عمل کریں تو آپ کی فصل کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔