مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی افواج کی طرف سے طاقت کااندھا دھند استعمال ، شوپیاں میں 14 بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام قابل مذمت ہے

کشمیریوں کی طرف سے نہیں بھارت کی طرف سے ریاستی دہشت گردی ہو رہی ہے شمالی کوریاکا دائمی تنازعہ سفارتی طور پر حل کیا جا سکتا ہے توکشمیر کا مسئلہ کیوں نہیں، صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کی واشنگٹن ڈی سی میں پریس کانفرنس

جمعرات مئی 16:27

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی افواج کی طرف سے طاقت کااندھا دھند استعمال اور شوپیاں میں 14بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔صدرآزاد کشمیر جو ان دنوں امریکا کے دورے پر ہیں نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک پریش کانفرنس میں امریکی اور پاکستانی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال سے آگاہ کیا، اس موقع پر امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری بھی موجود تھے ۔

صدر آزاد جموں وکشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ شوپیاں میں 14بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام بھارتی درندگی اور بربریت کی بدترین مثال ہے ۔ بھارتی افواج اِن معصوم کشمیریوں کو اپنے ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں جوبھارتی افواج کے ایک عرصہ سے ناجائز قبضہ کے خلاف اور اقوام متحدہ کی قراردادوںکے مطابق اپنے حق خودداریت کے حصول کے لئے غیر مسلح اور پُر امن جدوجہد کر رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

صدر آزادجموں وکشمیر نے کہا کہ 70سال سے جاری ظلم و جبر کے باوجود بھارت نہ صرف کشمیریوں کے جذبہ حُریت کو دبانے میں ناکام رہا ہے بلکہ وہ دنیا کے سامنے اپنے اس جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے کشمیریوں کو دہشت گرد ثابت کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی جانب سے کسی قسم کی کوئی دہشت گردی نہیں ہو رہی ہے اگر کوئی دہشت گردی ہو رہی ہے تو وہ صرف اور صرف بھارت کی جانب سے ریاستی دہشت گردی ہو رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بامقصد مذاکرات سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے جو نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ اس کی جمہوریت کے دعویدار ملک ہونے کے نفی بھی ہے ۔صدر مسعود خان نے کہا کہ کشمیریوں کی نظریں امریکا پر اس اُمید کے ساتھ جمی ہوئی ہیں کہ جس طرح امریکا نے شمالی کوریا کے مسئلے کو سفارت کاری و مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں دلچسپی لی ہے اسی طرح وہ جموں وکشمیر کے دیرینہ مسئلے کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کروانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔

انہوں نے امریکہ اور عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو پاکستان اورکشمیریوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے لئے رضا مند کرنے اور خطے میں امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لئے اپنا تعمیری و سفارتی کردار ادا کریں ۔صدر آزادجموں و کشمیر نے کہا کہ امریکہ ایک نمایاں عالمی رہنما ملک ہونے کے علاوہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن بھی ہے اور ماضی میں بھی امریکا نے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے ۔

لہذا ہماری امیدیں واشنگٹن سے وابستہ ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے سفارتی و سیاسی حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ اگر شمالی کوریاکا دائمی تنازعہ سیاسی اور سفارتی طور پر کامیابی سے حل کیا جا سکتا ہے تو پھرکشمیر کا مسئلہ حل کیوں نہیں کیا جا سکتا انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کے جمہوری اور مستقل حل کے لئے کشمیریوں کی خواہشات کا احترام ضروری ہے۔

صدر مسعود خان نے کشمیری عوام کی جانب سے کشمیریوںکے ساتھ اظہار یکجہتی پرپاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی کے ڈھاکہ بنگلہ دیش میں 5-6 مئی 2018کو 45 ویں وزراء خارجہ اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خوداداریت دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بھرپور حمایت پر او آئی سی کے رکن ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا ۔

صدر آزادجموں وکشمیر واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل ہل ، ورجینا ، میری لینڈ اور نیو یارک کے دیگر مقامات پر پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی جانب سے منعقد کئے جانے والے پروگراموں میں شرکت کریں گے ۔جہاں امریکا کی عوام اور بین الاقوامی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے اُن سے مطالبہ کریں گے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق پُر امن اور جمہوری طریقہ سے مسئلہ کشمیر حل کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں ۔