ْگجرات، شہری کو ناکے پر فائرنگ کرکے ٹانگ سے محروم کرنے والے چاروں اہلکار قصور وار قرار

جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے باوجود پولیس ملزم اہلکاروں کیخلاف کا روائی کر نے سے گر یزاں ، علاقے کی سیاسی شخصیات کے ذریعے لواحقین کو صلح پر مجبور کر نے کی کو ششیں

جمعرات مئی 16:31

گجرات(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پنجاب پولیس کی جے آئی ٹی رپورٹ نے معصوم شہری محمد عرفان کو ناکے پر فائرنگ کرکے ٹانگ سے محروم کرنے والے چاروں اہلکاروں کو قصور وار قرار دے دیا ہے ۔ جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے باوجود گجرات پولیس نے ملزم اہلکاروں کیخلاف نہ تو مقدمہ درج کیا اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ پنجاب پولیس کی زیرِ سرپرستی فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے مضروب محمد عرفان کے لواحقین کو مقدمہ کی پیروی سے روک سکیں ۔

تفصیلات کے مطابق ڈی ایس پی محمد عرفان الحق سلہریا، ڈی ایس پی محمد رمضان، ایس ایچ او فراست اللہ چٹھہ اور اے ایس آئی نثار احمد پر مشتمل چار رکنی کمیٹی نے اپنی چار صفحات پر مشتمل رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ پنجاب پٹرولنگ پولیس کے ناکہ انچارج اے ایس آئی داؤد کانسٹیبل خضر حیات کانسٹیبل آفتاب افضل، کانسٹیبل محمد عدنان اور محمد اعجازگشت پر موجود تھے اور انہوں نے وقوعہ کی بابت اطلاع کو بھی چھپایا اور افسران بالا کو اس واقعہ بارے کوئی اطلاع فراہم نہیں کی اور کانسٹیبل محمد اعجاز اور خضر حیات نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے محمد عرفان پر سیدھی فائرنگ کی ، جس سے وہ بُری طرح زخمی ہوگیا ۔

(جاری ہے)

مذکورہ اہلکاروں نے زخمی محمد عرفان کو ہسپتال پہنچانے کے بجائے موقع سے فوری طور پر فرار ہوگئے اور یہ کے چاروں اہلکار کناہ گار پائے گئے ہیں ۔ واضح رہے کہ اس واقعہ کو رونما ہوئے 8 روز گزر گئے ہیں اور پنجاب پولیس کی اپنی جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے باوجود قانون شکن اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج نہ ہونا پنجاب حکومت کی گڈگورننس کیلئے بذات خود ایک بڑا چیلنج ہے ۔

زخمی محمد عرفان اس وقت میو ہسپتال لاہور میں زیر علاج ہے ، جہاں پر ڈاکٹروں نے ابتدائی علاج معالجے کے بعد بتایا کے محمد عرفان کی ٹانگ کی ہڈی براہ راست گولی لگنے سے دوٹکڑے ہوچکی ہے صرف10فیصد امکان ہے کے ٹانگ کا پاؤں والاحصہ دوبارہ حرکت کرنے لگ جائے اور اگر یہ معجزہ ہو بھی جائے تو ٹانگ کم از کم دو انچ یقینی طور پر چھوٹی ہوجائے گی اور محمد عرفان کو باقی زندگی معذور کے طور پر گزارنا پڑے گی ۔

اپنی بیوہ ماں کے سہارے محمد عرفان کے اپنے بھی تین معصوم بچے ہیں اور محمد عرفان کا روزگار کسی کی گاڑی بطور ٹیکسی چلانا ہے لیکن عوام کے نام نہاد محافطوں نے محمد عرفان کو اپنی نااہلی اور غفلت کی بھینٹ چڑھادیا ہے ۔ پولیس اہلکاروں کو گجرات پولیس ابھی تک جان بوجھ کر گرفتار کرنے سے گریزاں ہے اور انہیں مشورہ دیا جارہا ہے کہ علاقے کی سیاسی شخصیات کے ذریعے لواحقین کو صلح پر مجبور کیا جائے تاکہ مقدمہ درج کرنے سے پولیس کی بدنامی نہ ہو