ایران کے ایٹمی معاہدے سے خطے کو امن و امان نہیں ملا،اسلامی تعاون تنظیم

تہران سے عالمی طاقتوں کے معاہدے کے لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے نظرثانی ضروری ہے،عرب لیگ

جمعرات مئی 16:33

جدہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف العثیمین نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی معاہدے سے مشرق وسطیٰ کے خطے کو امن وامان نہیں ملا،اسلامی تعاون تنظیم امید کررہی تھی کہ ایران کاایٹمی معاہدہ مشرق وسطیٰ کو زیادہ محفوظ ،زیادہ پرسکون اور زیادہ مستحکم بنا دے،او آئی سی نے اسی تناظر میں اس کا خیرمقدم بھی کیا تھا،تاہم آرزو پوری نہ ہوسکی بلکہ ایٹمی معاہدے کو آرزو کے برخلاف استعما ل کیا گیا جو اس کی روح کے منافی تھا۔

بیلسٹک میزائلوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور دہشتگردی کی سرپرستی کرنا اسی زمرے میں آتا ہے۔گزشتہ روز ڈاکٹر العثیمین نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کا ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ مسلم ممالک کے امن و استحکام کو خطرات پیدا کرنے والی ایرانی پالیسیوں کے علاج کا باعث بن جائیگی یہ ہماری آرزو ہے۔

(جاری ہے)

امریکہ کا فیصلہ خطے کے اندرونی امور میں ہر طرح کی مداخلت بند کرنے کا پیغام ثابت ہو۔

او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ اس سے قبل مداخلت کی مذمت کرچکی ہے،خاص طور پر حوثیوں کو بیلسٹک میزائل کی فراہمی پر او آئی سی ایران سے اپنی ناگواری کا اظہار کئے ہوئے ہے۔ دریں اثناء عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران کیساتھ عالمی طاقتوں کے ایٹمی معاہدے کے لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے نظرثانی ضروری ہے۔

انہوں نے توجہ دلائی کہ مسئلہ صرف ایٹمی معاہدے کا نہیں اصل آفت یہ ہے کہ ایران خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیاں اپنائے ہوئے ہے اور مغربی دنیا سے اپنی باتیں منوانے کیلئے عرب مسائل کو حجت کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ عرب ایران کے اس اسلوب سے بہت زیادہ تنگ ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنا رویہ بدلے۔ اگر ایران عرب ممالک کیساتھ حسن ہمسائیگی کے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔